مسح الاذنین کا صحیح طریقہ:

3 min readFatwa Vol 1 #249Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب ١: وضو اور غسل کا بیان

Question

کانوں کے مسح کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ اس لیے کہ فقہاء نے سبابہ کے استعمال کو وضو کی سنن میں ذکر کیا ہے اور آداب میں خنصر کے استعمال کو ذکر کیا ہے ۔ (شامی: ۱/۱۲۱) کیا دونوں انگلیوں کو استعمال کرنا ہے اور اگر ایسا ہو تو کون سی انگشت پہلے استعمال کی جائے سبابہ یا خنصر؟

Answer

فقہائے کرام کی عبارات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کانوں کے مسح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ کانوں کے اندرونی حصہ میں انگشتہائے شہادت استعمال کی جائیں اور کان کے باہر کے حصہ میں ابہام استعمال کیا جائے، پھر مسح میں مبالغہ کے لیے کانوں کے سوراخ میں خنصر داخل کی جائے، اور خنصر کا استعمال اکثر فقہاء کے ہاں آدابِ وضو میں شامل ہے، سنن وضو میں سے نہیں ہے ۔
مسح الاذنین کی ترتیب بھی یہی مستفاد ہوتی ہے کہ اولاً کانوں کی کھائیوں میں سبابہ سے مسح کیا جائے، پھر باہر کے حصہ پر ابہام سے مسح کیا جائے، اور آخر میں مبالغہ کے لیے خنصر کو سوراخ میں ڈال کر حرکت دی جائے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

وعن ابن عباس رضي الله عنه أن النبي ﷺ مسح برأسه وأذنيه ظاهرهما وباطنهما. رواه الترمذي، (رقم: ۳٦) وقال: هذا حديث حسن صحيح.

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

ويسن مسح الأذنين بأن يمسح ظاهرهما بالإبهامين، وداخلهما بالسبابتين وهو المختار كما في المعراج، ويدخل الخنصرين في جحريهما ويحركهما كما في البحر عن الحلواني، وشيخ الإسلام. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۷۲، قديمي).

مجمع الانہر میں ہے:

ومن الآداب إدخال خنصره صماختي أذنيه. (مجمع الأنهر: ۱/۳٤).
الدر المختار
میں ہے:

(وأذنيه) أي باطنهما بباطن السبابتين وظاهرهما بباطن الإبهامين (ومن آدابه) إدخال خنصره المبلولة صماخ أذنيه عند مسحهما. (الدر المختار: ۱/۱۲۵، سعيد).
شرح منية المصلي
میں ہے:

ومن الآداب: أن يدخل أصبعيه الخنصرين في صماخ أذنيه لحديث الربيع بنت معوذ بن عفراء أنها رأت النبي ﷺ يتوضأ قالت: ومسح رأسه وأذنيه مرة واحدة وأدخل أصبعيه في جحري أذنيه. رواه أبو داود. والخنصر أبلغ في الدخول لصغرها. (شرح منية المصلي، ص ۳٤، سهيل).

عمدۃ الفقہ میں ہے:
کانوں کے مسح کا طریقہ: کانوں کے اندر کا مسح دونوں انگشت شہادت کے اندر کی طرف سے کرے اور کانوں کے باہر کا مسح دونوں انگوٹھوں کے اندر کی طرف سے کرے اور دونوں ہاتھوں کی چھنگلیاں دونوں کانوں کے سوراخ میں داخل کرے اور ان حرکت دے ۔ (عمدۃ الفقہ:
۱
/
۱۲۲
) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (
البحر الرائق: ۱/۹٦، كوئته، والمحيط البرهاني: ۱/۲۲).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.