خطبہ سے قبل وعظ پر اعتراض اور اس کا جواب:

5 min readFatwa Vol 2 #410Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱٦): نمازِ جمعہ کا بیان

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد کے متولی صاحبان جمعہ سے پہلے وعظ اور بیان پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک ہی خطبہ عربی میں ہوتا تھا، لہذا وعظ کہنے کی ضرورت بھی نہیں اور یہ دین میں نیا طریقہ ہے؟ جب کہ یہ مسجد شہر میں سب سے بڑی ہے اور نماز ی بھی زیادہ ہیں ۔

Answer

عربی خطبہ سے پہلے جو وعظ اور بیان ملکی زبان میں کیا جاتا ہے اس کا ثبوت صحابہ کرام کے عمل سے ملتا ہے لہذا اس کو نیا طریقہ کہنا صحیح نہیں ہے ۔ اور ہم اس کو سنت نہیں بلکہ مصلحت سمجھتے ہیں ۔
ملاحظہ ہو مستدرکِ حاکم میں ہے:

أخبرنا أحمد بن سليمان الفقيه حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي ثنا أحمد بن يونس ثنا عاصم بن محمد بن زيد عن أبيه قال: كان أبو هريرة رضي الله عنه يقوم يوم الجمعة إلى جانب المنبر فيطرح اعقاب ن عليه في ذراعيه ثم يقبض على رمانة المنبر يقول: قال أبو القاسم ﷺ قال محمد ﷺ قال رسول الله ﷺ قال الصادق المصدوق ﷺ ثم يقول في بعض ذلك ويل للعرب من شر قد اقترب فاذا سمع حركة باب المقصورة بخروج الإمام جلس. هذا حديث صحيح ولم يخرجاه. (المستدرك للحاكم: ۱/۱۰۸، كتاب العلم)

اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه جمعہ کے دن ممبر کے پاس کھڑے ہو کر احادیث سے وعظ سنایا کرتے تھے پھر جب امام کے نکلنے کی آہٹ محسوس کرتے تو بیٹھ جاتے، حاکم نے اس روایت کو صحیح فرمایا ہے ۔
ملا علی قاری رحمه الله نے موضوعات کبیر میں حضرت عمر رضي الله عنه اور حضرت عثمان رضي الله عنه کے دور خلافت میں حضرت تمیم داری رضي الله عنه کا یہ طرزِ عمل نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضي الله عنه سے جمعہ کے خطبہ سے قبل وعظ کی اجازت چاہی حضرت عمر رضي الله عنه نے اولاً ان کار کے بعد ایک دن کی اجازت دے دی اور فرمایا جمعہ کے لیے میرے نکلنے سے قبل وعظ کہہ دیا کریں ۔ ملاحظہ ہو موضوعاتِ کبیر میں ہے:

وأخرج ابن عساكر رحمه الله عن حميد بن عبد الرحمن أن تميماً الداري رضي الله عنه استأذن عمر رضي الله عنه في القصص سنين، فأبي أن يأذن له، فاستأذن في يوم واحد، فلما أكثر على ه، قال له ما تقول؟ قال: أقرأ عليهم القرآن، وآمرهم بالخير، وأنها هم عن الشر، قال عمر رضي الله عنه ذلك الذبح ثم قال: عظ قبل أن أخرج في الجمعة، فكان يفعل ذلك يوماً واحداً في الجمعة. (موضوعاتِ كبير: ص ۲۰، مير محمد كتب خانه كراچي)

(شاید پہلے ان کار اس لیے کیا ہو کہ وعظ کی نوعیت معلوم نہیں تھی پھر جب حضرت تمیم داری رضي الله عنه نے قرآن کا حوالہ دیا تو اجازت دے دی)
مولانا عبد الحی رحمه الله صاحب نے حضرت عثمان رضي الله عنه کے زمانہ میں حضرت تمیم داری رضي الله عنه کا وعظ بجائے ایک دن کے دو دن نقل فرمایا ہے جس سے معلوم ہوا کہ شروع میں صرف جمعہ کے خطبہ سے قبل بیان تھا پھر جب اس کا فائدہ زیادہ محسوس ہوا تو ایک اور دن کا اضافہ کر دیا ۔ (
مجموعة رسائل اللكنوي "إقامة الحجة على ان الإكثار في التعبد ليس ببدعة: ص ۱۳)

حضرت مفتی محمود صاحب گنگوہی رحمه الله نے بھی تمیم داری رضي الله عنه والی روایت موضوعاتِ کبیر سے نقل کر کے فرمایا ہے کہ اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضي الله عنه نے حضرت تمیم داری رضي الله عنه کے بار بار درخواست کرنے پر جمعہ کی نماز سے پہلے وعظ کی اجازت دی تھی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۸/۲۵٤، ۲۵۵، مبوب و مرتب، جامعہ فاروقیہ)
نیز ملاحظہ ہو: امداد الاحکام: ۱/۲۷۷، خطبہ سے پہلے وعظ کہنے کا حکم ۔ و فتاوی رحیمیہ: ۱/۲٦٤ ۔ و کفایت المفتی: ۳/ ۲۱٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.