خطبۂ جمعہ سے پہلے تقریر کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #409Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱٦): نمازِ جمعہ کا بیان

Question

جمعہ کی نماز اور خطبہ سے پہلے تقریر کی جاتی ہے اس کی کوئی اصل ہے یا نہیں؟
پھر بعض جگہوں میں سنتوں کے لیے خطبہ سے پہلے وقت دیا جاتا ہے اور بعض جگہوں میں تقریر کے دوران لوگ سنتیں پڑھتے ہیں ان میں سے کون سا عمل بہتر ہے؟

Answer

نماز ی حضرات کی رضامندی سے اذانِ اول کے بعد خطبہ اور نماز سے پہلے تقریر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چنانچہ مستدرکِ حاکم کی روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه خطیب کے خطبہ سے پہلے وعظ فرمایا کرتے اور احادیث بیان فرماتے تھے۔ ملاحظہ ہو:

كان أبو هريرة رضي الله عنه يقوم يوم الجمعة إلى جانب المنبر فيطرح اعقاب ن عليه في ذراعيه ثم يقبض على رمانة المنبر يقول: قال أبو القاسم ﷺ قال محمد ﷺ قال رسول الله ﷺ قال الصادق المصدوق ﷺ ثم يقول في بعض ذلك ويل للعرب من شر قد اقترب فإذا سمع حركة باب المقصورة بخروج الإمام جلس. (المستدرك للحاكم: ۱/۱۰۸، كتاب العلم)

اسی طرح علامہ زبیدی رحمه الله نے جمعہ کے دن دینی مجالس کے قیام کا مشورہ دیتے ہوے ابن ابی شیبہ کے حوالہ سے درجِ ذیل حضرات سے ان مجالس کا جواز نقل فرمایا ہے:

"قد روى ابن أبي شيبة جواز ذلك عن السائب رضي الله عنه وعبد الله بن بسر رضي الله عنه وابن عمر رضي الله عنه وأبي هريرة رضي الله عنه". (إتحاف سادة المتقين شرح إحياء علوم الدين: ۳/۲۷۷)

نیز ہمارے زمانہ میں دین سے دوری ہے اور مسائل علمیہ جاننے اور مجالس علمیہ میں آنے کا شوق نہیں رہا ہے اس لیے لوگوں تک دین کی معلومات بہم پہنچانے کے لیے جمعہ سے پہلے تقریر بے حد مفید ہے ۔
چنانچہ حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله سے جب استفسار کیا گیا کہ لوگ عربی زبان سے بے بہرہ اور ناواقف ہیں ان کے نفع کے لیے اردو زبان میں خطبہ کا ترجمہ کیسا ہے؟
حضرت نے جواب رقم فرمایا:
اس کی اچھی صورت یہ ہے کہ خطیب مادری زبان میں خطبہ شروع کرنے سے پہلے تقریر کر دے اور ضروریاتِ دینیہ بیان کر دے ۔ (کفایت المفتی: ۳/۲۱٤)
نیز ملاحظہ ہو: امداد الاحکام: ۱/۲۷۷، خطبہ سے پہلے وعظ کہنے کا حکم ۔ و فتاوی محمودیہ: ۸/۲۵٦، مبوب و مرتب، جامعہ فاروقیہ ۔ و فتاوی رحیمیہ: ۱/۲٦٤)
سنتوں کے لیے خطبہ سے قبل الگ وقت مناسب ہے، درمیانِ تقریر سنتیں پڑھنا نامناسب معلوم ہوتا ہے ایک تو اس وجہ سے کہ خود سنتیں پڑھنے والے کی نماز میں خلل واقع ہوگا ۔ دوم یہ کہ یہ بات خلافِ ادب بھی ہے کہ اجتماعی دینی بات کو نہ سنا جائے اور کسی انفرادی عمل میں مشغول ہو جائے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.