خطبہ میں حضرت معاویہ رضي الله عنه کا تذکرہ کرنے کا حکم:
Question
خطبہ میں حضرت معاویہ رضي الله عنه کا تذکرہ کرنا چاہیے یا نہیں؟
Answer
خطبہ میں حضرت معاویہ رضي الله عنه کا تذکرہ کرنا چاہیے خصوصاً اس زمانہ میں جب کہ لوگ ان کے بارے میں بد ظنی کا شکار ہیں ۔ ہاں اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو پہلے لوگوں کو مانوس کرے، پھر آہستہ خطبہ میں تذکرہ شروع کرے ۔ ملاحظہ ہو احسن الفتاوی میں ہے:
ہر زمانہ میں مضمون کی ترتیب میں اسلام میں پیدا ہونے والے فتنوں سے مسلک اہلِ سنت کی حفاظت کا اہتمام کیا گیا ہے، چنانچہ حضراتِ صحابہ کرام
ث
کے اسمائے مبارکہ اور ان کے لیے دعا اور ان کے مناقب خطبہ میں لانے سے روافض و خوارج پر تردید اور مسلکِ اہل سنت کا اعلان مقصود ہے، سابق زمانہ میں جو فتنے تھے ان کی تردید کے لیے انہی صحابہ
ث
کا ذکر کافی تھا جو مطبوعہ خطبوں میں مذکور ہیں، جدید دور کا ایک ایک جدید فتنہ ایک ایسی جماعت کا ظہور ہے جو اہلِ سنت ہونے کی مدعی ہے اور حضراتِ صحابہ کرام
ث
سے عقیدت کا دعوی کرتی ہے، مگر قلوب بغض صحابہ
ث
سے مسموم ہیں، بالخصوص حضرت عثمان
رضي الله عنه اور حضرت معاویہ رضي الله عنه سے متعلق ان کے قلوب کی نجاست ان کی زبان و قلم سے مسلسل اُبل رہی ہے، مسلکِ اہل سنت میں کسی صحابی کے بارے میں ذرا سی بد گمانی بھی اللہ تعالی کے غضب اور جہنم کی موجب ہے، اس لیے یہ لوگ اہلِ سنت سے خارج ہیں، اور الحاد میں روافض ہی کی راہ پر چل رہے ہیں، نیز روافض کو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سوا دوسری بناتِ مکرمات رضي الله عنه سے بھی بغض ہے، اس لیے ان فتنوں کی تردید کے پیشِ نظر خطبہ میں حضرت معاویہ رضي الله عنه اور بناتِ مکرمات رضي الله عنه کے مناقب و فضائل کا ذکر اور ان کے لیے دعاءِ ترضی کا معمول بنانا چاہیے، اس سے حضرت تھانوی قدس سرہ اور دوسرے اکابر رحمہم اللہ تعالی کے مسلک سے انحراف لازم نہیں آتا، بلکہ ان کے مسلک کی تائید ہوتی ہے، اس لیے کہ ان کے خطبات جس نظریہ پر مبنی ہیں ان میں یہ اضافہ بھی اسی نظریہ کے ماتحت کیا گیا ہے، جس کی تفصیل اوپر بتائی جا چکی ہے، فقط واللہ تعالی اعلم ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۱٤٦، باب الجمعہ و العیدین)
فتاوی فریدیہ میں ہے:
نہ اصرار مناسب ہے اور نہ انکار زیبا ہے خصوصاً جب کہ حضرت معاویہ رضي الله عنه کے متعلق بہت سے لوگ بد ظنی کا شکار ہوئے ہیں ۔ (فتاوی فریدیہ: ۳/۱۸۸، فصل فی الجمعہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.