حضرت معاویہ رضي الله عنه کے بارے میں روایت کی تحقیق:

3 min readFatwa Vol 1 #43Urdu
Vol. 1كتاب الإيمان والعقائدباب (٤): صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالی علیہم اجمعین کا بیان

Question

حضور
ﷺ
نے حضرت معاویہ
رضي الله عنه
کے بارے میں "
لا أشبع الله بطنه"
فرمایا یہ بات پایۂ ثبوت تک پہونچی یا نہیں؟

Answer

مسلم شریف میں ہے:

حدثنا محمد بن المثنى العنزي وابن بشار واللفظ لا بن المثنى قالا نا أمية بن خالد نا شعبة عن أبي حمزة القصاب عن ابن عباس رضي الله عنه قال: كنت ألعب مع الصبيان فجاء رسول الله ﷺ فتواريت خلف باب، قال: فجاء فحطأني حطأة وقال: اذهب ادع لي معاوية قال: فجئت فقلت: هو يأكل، قال: ثم قال لي: اذهب فادع لي معاوية قال: فجئت فقلت: هو يأكل فقال: لا أشبع الله بطنه. (صحيح مسلم: ۲/ ۳۲٤، ط: قديمي كتب خانه).

مذکورہ بالا روایت چند وجوہات کی بناء پر سمجھ میں نہیں آتی ہے، روایت میں یہ مذکور نہیں ہے کہ ابن عباس رضي اللہ عنہ نے حضرت معاویہ
رضي الله عنه
کو بلایا ۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے حضرت معاویہ
رضي الله عنه
کو کھاتے ہوے دیکھا تو واپس آئے اور اگر بالفرض انہوں نے حضرت معاویہ
رضي الله عنه
کو بلایا تو کسی جگہ مذکور نہیں ہے کہ معاویہ
رضي الله عنه
نے آنے سے انکار فرمایا اور اس کی سند میں ایک راوی ہے ابو حمزۃ القصاب جس پر علماء نے کلام کیا ہے ۔
چنانچہ ابن حجر رحمہ اللہ تقریب التہذیب میں لکھتے ہیں:

عمران بن أبي عطاء الأسدي مولاهم أبوحمزة القصاب الواسطي صدوق له أوهام. (تقريب التهذيب، ص: ۲٦۵).
تحرير تقريب التهذيب
میں ہے:

بل: ضعيف يعتبر به، فقد ضعفه أبو زرعة الرازي، وأبو حاتم، والنسائي، وأبو داود، والعقيلي. ووثقه ابن معين، وذكر ابن خلفون أن ابن نمير وثقه أيضاً وذكره ابن حبان في الثقات. (تحرير تقريب التهذيب: ۳/۱۱۵، ترجمة: ۵۱٦۳).
وقال أبو زرعة بصري: لين وقال أبو حاتم والنسائي: ليس بقوي، وقال أبو عبيد الآجري: سمعت أبا داود يقول: أبوحمزة عمران بن أبي عطاء يقال له عمران الجلاب ليس بذاك وهو ضعيف. (تهذيب الكمال: ۲۲/۳٤۳).

(بعض علماء نے اس کی توثیق بھی کی ہیں) اصحابِ صحاح میں سے صرف امام مسلم رحمہ اللہ نے ان سے روایت لی ہے اور وہ بھی صرف ایک جگہ (یعنی مذکورہ بالا روایت) ۔
رسول اللہ
ﷺ
نے حضرت ابن عباس کو بلایا اور اس روایت کے ایک طریق میں مذکور ہے کہ وہ چھپ گئے یہ بات بہت بعید ہے کہ ابن عباس
رضي الله عنه
جو حضور
ﷺ
کے ساتھ رہنے کو اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے چھپ جائیں جبکہ وہ حضور
ﷺ
کے گھر میں حضرت میمونہ رضي اللہ عنہ کی نوبت میں پوری رات جاگنے کا اہتمام اس لیے فرماتے کہ آپ ﷺ کے رات والے اعمال دیکھ لیں ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.