پوسٹ مارٹم کا شرعی حکم:
Question
پوسٹ مارٹم کی شرعی کیا حیثیت ہے؟ کیا یہ میت کی توہین میں داخل ہے یا نہیں؟
Answer
میت کے ساتھ ہر وہ کام کرنا جس سے زندہ کو تکلیف ہوتی ہے جائز اور درست نہیں ہے، اور پوسٹ مارٹم میں جسم کی تقطیع ہے اور یہ معاملہ اگر زندہ کے ساتھ کیا جائے تو ضرر رساں ہے لہذا میت کے ساتھ بھی درست نہیں ہوگا اس میں جسمِ انسانی کی توہین ہے حتی الامکان اپنی میت کو اس سے بچانا چاہیے، لیکن اگر مجبوراً کرانا پڑے تو اس کی گنجائش ہے۔ ملاحظہ ہو عصرِ حاضر کے فقہی مسائل میں ہے:
میت کی لاش کا پوسٹ مارٹم اب محض ایک طبعی ضرورت ہی نہیں رہی بلکہ تفتیشِ جرائم کے لیے قانون و انصاف کے شعبہ میں بھی اس کا سہارا لینا نا گزیر ہو گیا ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسا عمل جس میں انسانی جسم کی قطع و برید اور چیر پھاڑنے کے بغیر کام نہ چلتا ہو اس کی کیوں کر گنجائش ہو سکتی ہے۔ (عصرِ حاضر کے فقہی مسائل: ص ۷٤ ۔ و جدید مسائل کا شرعی حل: ص ۲٤۸)
جدید فقہی مسائل میں ہے:
پوسٹ مارٹم بھی اگر کسی ضرورت کے پیشِ نظر نا گزیر ہو جائے تو جائز ہے مثلاً مقدمہ کی تحقیق کے لیے موت کی وجہ معلوم کرنی ہو، یا کوئی شخص اپنا اندرونی عضو ہبہ کر دے اور علماء اس کے جواز کا فتوی دے دیں، اس لیے اس عضو کو نکالنا ہو وغیرہ، اور اس کی نظیر یہ ہے کہ فقہاء نے اس مردہ حاملہ عورت کا پیٹ چاک کرنے کی اجازت دی ہے جس کے پیٹ کا بچہ ابھی زندہ ہے تاکہ اس طرح اس کو نکالا جا سکے۔ (جدید فقہی مسائل: جلد اول: ص ۲۰۳، پوسٹ مارٹم، پروگریسو بکس)
کفایت المفتی میں ہے:
طبی معائنہ (پوسٹ مارٹم) کی بہت سی صورتیں شرعی ضرورت کے بغیر واقع ہوتی ہیں جو ناجائز ہیں اور اگر کوئی خاص صورت شرعی ضرورت کے ماتحت جائز بھی ہو تاہم اس میں شرعی احکام متعلقہ ستر و احترام میت کا التزام ضروری ہوگا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میت کے جسم کو پھاڑنا چیرنا اس کے احترام کے منافی ہے اور جب تک کوئی ایسی قوی وجہ نہ ہو کہ اس کے سامنے اس بے حرمتی کو نظر انداز کیا جا سکے چیر پھاڑ مباح نہیں ہو سکتی عورت کی برہنہ میت غیر محرم مرد کے ہاتھوں میں جانا تو در کنار اس کی نظر کے نیچے بھی نہیں جا سکتی۔ (کفایت المفتی: ٤/۲۰۰، آٹھواں باب، کتاب الجنائز، دار الاشاعت ۔ و نظام الفتاوی: ۱/٤۱۲، پوسٹ مارٹم کا حکم، اسلامک فقہ اکیڈمی ۔ و امداد الفتاوی: ۱/۵۰۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.