بھوک ہڑتال (مقاطعہ جوعی) کی شرعی حیثیت:

2 min readFatwa Vol 8 #248Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

بھوک ہڑتال کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یعنی ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

Answer

بھوک ہڑتال ہمارے بعض اکابرین کے نزدیک جائز نہیں ، اس لیے کہ یہ ایک قسم کی اسٹرائک ہے جو قطع تعلق پر مبنی ہے، پھر اگر بھوک ہڑتال کا مقصد فساد ہے تو اس آیتِ کریمہ کے تحت داخل ہے:
﴿ويقطعون ما أمر الله به أن يوصل ويفسدون في الأرض﴾ [البقرة: ۲۸]
۔
اور اگر اپنی اغراض حاصل کرنے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے تو بھی اپنے جسم کو تکلیف دینے اور کلفت پہنچا نے کی وجہ سے ممنوع ہے۔ ملاحظہ ہو الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:

أما الأكل فعلي مراتب: فرض، وهو ما يندفع به الهلاك

ولا تجوز الرياضة بتقليل الأكل حتى يضعف عن أداء الفرائض، ومن امتنع من أكل الميتة حالة المخمصة أو صام ولم يأكل حتى مات أثم. (الاختيار لتعليل المختار: ٤/۱۸۵، كتاب الكراهية، دار الكتب العلمية، بيروت).
وفي الهندية: أما الأكل فعلي مراتب فرض وهو ما يندفع به الهلاك فإن ترك الأكل والشرب حتى هلك فقد عصي. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۳٦).

لیکن اگر یہ اسٹرائک جائز مقصد اور اچھی نیت سے کی جائے تو ٹھیک ہے، جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه نے فرمایا تھا:
لا أذوق طعاماً ولا أشرب شراباً أو آتي رسول الله ﷺ. (البداية والنهاية: ۳/٤۱، دار إحياء التراث العربي)
یعنی میں کوئی چیز نہیں چکھوں گا اور نہ کچھ پیوں گا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے نہ ملوں۔
نیز حضرت اسماء بنت عمیس رضی الله عنه نے فرمایا تھا:
وأيم الله لا أطعم طعاماً ولا أشرب شراباً حتى أذكر ما قلت لرسول الله ﷺ. (تاريخ الإسلام للامام الذهبي: ۲/٤۳۱، دار الكتاب العربي).

کفایت المفتی میں ہے: سوال: مقاطعہ جوعی (بھوک ہڑتال) بطورِ احتجاج برخلاف بدسلوکی کے کیا جائے، تو کیا حکم ہے؟
جواب: مقاطعہ جوعی اس حد تک کہ ہلاکت کا گمان غالب نہ ہو جائے جائز ہے۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۳۰۵
، ط: دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.