کافر کے جنازہ اور تدفین میں شرکت کا حکم:

4 min readFatwa Vol 2 #512Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۹): احکام الجنائز

Question

کافر کے جنازہ اور تدفین میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے؟

Answer

کافر کے جنازہ اور تدفین میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے البتہ اس کے وارثوں کی تعزیت کرنا جائز ہے ۔
ملاحظہ ہو قرآنِ کریم میں ہے:

(۱) ﴿ولا تصل على أحد منهم مات أبداً ولا تقم على قبره﴾ (سورة التوبة: ۸٤)
(۲) ﴿ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين﴾ (سورة التوبة: ۱۱۳)

تفسیر مظہری میں ہے:

ولا تصل: المراد بالصلاة الدعاء والاستغفار للميت فيشتمل صلاة الجنازة أيضاً لا نها مشتملة على الدعاء والاستغفار

مات أبداً ولا تقم على قبره للدفن أو للزيارة. (تفسير مظهري: ٤/۲۷٦)

معارف القرآن میں ہے:
اسی آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی کافر کے اعزاز و آ کرام کے لیے اس کی قبر پر کھڑا ہونا یا اس کی زیارت کے لیے جانا حرام ہے عبرت حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی مجبوری کی وجہ سے ہو تو اس کے منائی نہیں جیسا کہ ہدایہ میں ہے کہ اگر کسی مسلمان کا کافر رشتہ دار مر جائے اور اس کا کوئی ولی وارث نہیں تو مسلمان رشتہ دار اس کو اسی طرح بغیر رعایتِ طریقِ مسنون کے گڑھے میں دبا سکتا ہے ۔ (معارف القرآن: ٤/٤۳۷، سورۂ توبہ: ۸٤، بحوالہ بیان القرآن)
فتاوی شامی میں ہے:

وفي النوادر جار يهودي أو مجوسي مات ابن له أو قريب ينبغي أن يعزيه، ويقول أخلف الله عليك خيراً منه، وأصلحك وكان معناه أصلحك الله بالإسلام يعني رزقك الإسلام ورزقك ولداً مسلماً كفاية. (فتاوى الشامي: ٦/۳۸۸، كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، سعيد. والفتاوى الهندية: الباب الرابع عشر في أهل الذمة. وتبيين الحقائق: فصل في البيع)

امداد المفتین میں ہے:
کافر کی عیادت جائز ہے اور جب مر جائے تو اس کے وارثوں کی تعزیت بھی جائز ہے مگر تعزیت اس مضمون سے کی جائے کہ اللہ تعالی تمھیں اس سے بہتر بدلا عطا فرمائے، لیکن کافر کے جنازہ کے ساتھ مرگھٹ تک جانا یہ جائز نہیں کیوں کہ اس میں جیفہ کافر کی تعظیم و تکریم ہے اور وہ مستحقِ اہانت ہے نہ کہ مستحقِ تعظیم، نیز جنازہ کے ساتھ جانے کا ایک مقصد شفاعت کرنا بھی ہے اور ظاہر ہے کہ کافر شفاعت کا اہل نہیں ہے ۔ (امداد المفتین: اول و دوم: ص ۳٦٦، امدادیہ دیوبند)
احسن الفتاوی میں ہے:
مسلم کی غیر مسلم کے جنازہ میں شرکت کرنا جائز نہیں، تعزیت کر سکتا ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۲۳۳)
الغرض مصلحت کی وجہ سے جا سکتا ہے دعائے مغفرت کے لیے نہیں جا سکتا حضرت علی رضي الله عنه سے آنحضور
ﷺ
نے فرمایا: تم جا کر باپ کی لاش کو دفن کر دو ۔
ملاحظہ ہو البدایہ و النہایہ میں ہے:

وقال أبو داود الطيالسي: حدثنا شعبة، عن أبي إسحاق سمعت ناجية بن كعب يقول: سمعت على اً رضي الله عنه يقول: لما توفي أبي أتيت رسول الله ﷺ فقلت: إن عمك قد توفي فقال: "اذهب فواره" فقلت: إنه مات مشركاً، فقال: "اذهب فواره ولا تحدثن شيئاً حتى تأتي" ففعلت فأتيته، فأمرني أن أغتسل. ورواه النسائي، عن محمد بن المثني، عن غندر، عن شعبة. ورواه أبو داود والنسائي من حديث سفيان، عن أبي إسحاق، عن ناجية، عن علي رضي الله عنه

(البداية والنهاية: ۳/۱۳٦، فصل وفاة أبي طالب عم رسول الله ﷺ، بيروت).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.