ظلماً قتل کیا جاوے وہ شہید ہے:
Question
کسی مسلمان کو اگر غیر مسلم دکان وغیرہ میں قتل کر دے تو شہید کے حکم میں ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں ظلماً قتل کیا جانے والا مسلمان شہید ہے یعنی اس پر شہید کے احکام جاری ہوں گے، لہذا اس کو غسل نہیں دیا جائے گا اور اسی خون آلودہ کپڑوں میں دفن کیا جائے گا ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:
ولو نزل عليه اللصوص ليلاً في المصر فقتل بسلاح أو غيره أو قتله قطاع الطريق خارج المصر بسلاح أو غيره فهو شهيد لأن القتيل لم يخلف في هذه المواضع بدلاً هو مال ولو قتل في المصر نهاراً بسلاح ظلماً بأن قتل بحديدة أو ما يشبه الحديدة كالنحاس والصفر وما أشبه ذلك، أو ما يعمل عمل الحديدة من جرح أو قطع أو طعن بأن قتله بزجاجة أو بليطة قصب أو طعنه برمح لا زج له أو رماه بنشابة لا نصل لها أو أحرقه بالنار وفي الجملة كل قتل يتعلق به وجوب القصاص فالقتيل شهيد. (بدائع الصنائع: ۱/۳۲۱، فصل في الشهيد، سعيد)
در مختار میں ہے:
وهو كل مسلم طاهر
قتل ظلماً بغير حق بجارحة أي بما يوجب القصاص ولم يجب بنفس القتل المال، بل قصاص حتى لو وجب المال بعارض كالصلح أو قتل الأب ابنه لا تسقط الشهادة. (الدر المختار: ۲/۲٤۷. والشامي: ۲/۲٥۰، سعيد. وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۱٦۷، الفصل السابع في الشهيد. وفتاوى محمودية: ۹/۲۹٥، باب أحكام الشهيد)
بہشتی زیور میں ہے: شہید کے جو احکام یہاں بیان کرنا مقصود ہیں وہ اس شہید کے ساتھ خاص ہیں جس میں یہ شرائط پائی جائیں:
(۱) مسلمان ہونا ۔
(۲) مکلف یعنی عاقل بالغ ہونا ۔
(۳) حدث اکبر سے پاک ہونا ۔
(٤) بے گناہ مقتول ہونا ۔
(۵) آلہ جارحہ کے ساتھ مارا گیا ہو ۔
(٦) اس قتل کی سزا میں ابتداء ً شریعت کی طرف سے کوئی مالی عوض نہ مقرر ہو بلکہ قصاص واجب ہوا ہو،
(۷)بعد زخم لگنے کے پھر کوئی امرِ راحت و تمتعِ زندگی مثل کھانے پینے سونے دوا کرنے وغیرہ کے اس سے وقوع میں نہ آئے اور نہ بمقدار وقت ایک نماز کے اس کی زندگی حالتِ ہوش و حواس میں گذرے ۔
جس شہید میں یہ سب شرائط پائی جائیں اس کا حکم یہ ہے کہ اس کو غسل نہ دیا جائے اور اس کا خون جسم سے زائل نہ کیا جائے اسی طرح اس کو دفن کر دیں، دوسرا حکم یہ ہے کہ جو کپڑے پہنے ہوے ہو ان کپڑوں کو اس کے جسم سے نہ اتاریں، ہاں اگر اس کے کپڑے عدد مسنون سے کم ہوں تو عدد مسنون کے پورا کرنے کے لیے اور کپڑے زیادہ کر دیے جائیں، اسی طرح زائد کپڑے اتار لیے جائیں اگر کسی شہید میں ان شرائط میں سے کوئی شرط نہ پائی جاوے تو اس کو غسل بھی دیا جائے گا اور مثل دوسرے مردوں کے نیا کفن بھی پہنایا جاوے گا ۔ (بہشتی زیور گیارہواں حصہ: ص ۱۰۰، مدلل و مکمل، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.