نامعلوم ظالم کے ہاتھ سے شہید ہونے والے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #543Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۹): احکام الجنائز

Question

اگر کوئی شخص کسی نامعلوم ظالم کے ہاتھ سے شہید ہو جائے تو اس کو غسل دیا جائے گا یا نہیں؟

Answer

نامعلوم ظالم کے ہاتھ سے قتل ہونے والا شخص شہید کے حکم میں لہذا اس پر شہداء کے احکام جاری ہوں گے یعنی حنفیہ کے ہاں غسل نہیں دیا جائے گا ۔ مبسوط میں ہے:

ومن صار مقتولاً من جهة قطاع الطريق لم يغسل أيضاً لأنه قتل دافعاً عن ماله وقد قال ﷺ: "من قتل دون ماله فهو شهيد" فلهذا لا يغسل. (المبسوط: ۲/٥۲، باب الشهيد، إدارة القرآن)

ہدایہ میں ہے:

ومن قتله أهل حرب أو أهل البغي أو قطاع الطريق فبأي شيء قتلوه لم يغسل لأن شهداء أحد ما كان كلهم قتيل السيف والسلاح. (الهداية: ۱/۱۸۳، باب الشهيد، شركة علمية. ودرر الحكام شرح غرر الأحكام: ۱/۱٦۹، باب الشهيد)

بہشتی زیور میں ہے: شہید کے جو احکام یہاں بیان کرنا مقصود ہیں وہ اس شہید کے ساتھ خاص ہیں جس میں یہ شرائط پائی جائیں:
(۱) مسلمان ہونا ۔
(۲) مکلف یعنی عاقل بالغ ہونا ۔
(۳) حدثِ اکبر سے پاک ہونا ۔
(٤) بے گناہ مقتول ہونا ۔
(۵) آلہ جارحہ کے ساتھ مارا گیا ہو ۔
(٦) اس قتل کی سزا میں ابتداء ً شریعت کی طرف سے کوئی مالی عوض نہ مقرر ہو بلکہ قصاص واجب ہوا ہو،
(۷)بعد زخم لگنے کے پھر کوئی امرِ راحت و تمتعِ زندگی مثل کھانے پینے سونے دوا کرنے وغیرہ کے اس سے وقوع میں نہ آئے اور نہ بمقدار وقت ایک نماز کے اس کی زندگی حالتِ ہوش و حواس میں گذرے ۔
جس شہید میں یہ سب شرائط پائی جائیں اس کا حکم یہ ہے کہ اس کو غسل نہ دیا جائے اور اس کا خون جسم سے زائل نہ کیا جائے اسی طرح اس کو دفن کر دیں، دوسرا حکم یہ ہے کہ جو کپڑے پہنے ہوے ہو ان کپڑوں کو اس کے جسم سے نہ اتاریں، ہاں اگر اس کے کپڑے عدد مسنون سے کم ہوں تو عدد مسنون کے پورا کرنے کے لیے اور کپڑے زیادہ کر دیے جائیں، اسی طرح زائد کپڑے اتار لیے جائیں اگر کسی شہید میں ان شرائط میں سے کوئی شرط نہ پائی جاوے تو اس کو غسل بھی دیا جائے گا اور مثل دوسرے مردوں کے نیا کفن بھی پہنایا جاوے گا ۔ (بہشتی زیور گیارہواں حصہ: ص ۱۰۰، مدلل و مکمل، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.