کسی قبر کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #525Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۹): احکام الجنائز

Question

قبر یا کسی شخص کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے کا کیا حکم ہے؟ اور اگر کوئی بچہ یا کوئی شخص مجمع کے سامنے تلاوت کر رہا ہو تو ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے کا کیا حکم ہے؟ اور آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک کے سامنے اس طرح کھڑے ہونے کا کیا حکم ہے؟

Answer

آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے کی گنجائش ہے اور اگر کوئی قرآنِ کریم کی تلاوت
كرتا ہ
و اور کوئی قبر وغیرہ سامنے نہ ہو تو قرآنِ کریم کے احترام میں بطریقِ اولیٰ جائز ہے، اس میں سامعین کی تعظیم نہیں بلکہ قرآنِ کریم کا احترام مطلوب ہے، ہاں کسی شخص کے سامنے اس طرح کھڑے رہنے سے اجتناب کرنا بہتر ہے جیسے حضرت مولانا عبد الحی لکھنوی رحمه الله نے فرمایا زیارت القبور کے وقت آنحضرت ﷺ کی قبر کے علاوہ خلافِ اولیٰ ہے ۔ ملاحظہ ہو ارشاد الساری میں ہے:

ثم توجه بالقلب مع رعاية غاية الأدب فقام تجاه الوجه الشريف متواضعاً خاضعاً خاشعاً مع الذلة والانكسار والخشية والوقار أي السكينة

واضعاً يمينه على شماله أي تأدباً في حال إجلاله مستقبلاً لوجه الكريم. (ارشاد الساري إلى مناسك الملا على القاري: ص ٥٥۸، فصل ولو توجه إلى الزيارة، بيروت)

شفاء السقام میں ہے:

وقال القاضي عياض في الشفاء: قال بعضهم: رأيت أنس بن مالك رضي الله عنه أتي قبر النبي ﷺ فوقف فرفع يديه حتى ظننت أنه افتتح الصلاة فسلم على النبي ﷺ ثم انصرف. (شفاء السقام: ص ۷۳)

علامہ عبد الحی لکھنوی رحمه الله نے سعایہ میں اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے جس کا خلاصہ حسبِ ذیل درج ہے:

قلت: الحق الحقيق بالقبول هو أنه لا بأس بهذه الهيأة عند زيارة قبر النبي ﷺ بل هو الأولى للمتأدب وأما عند زيارة قبر غيره فهو خلاف الأولى خصوصاً عند زيارة قبر العوام فاحفظه فإنه تنبيه مهم قل من ذكره. (السعاية في كشف ما في شرح الوقاية: ۲/۱٥۹، ۱٦۰، باب صفة الصلاة، سهيل اكيڈمي)

فتاوی محمودیہ میں ہے:
بعض حضرات اکابر رحمه الله نے اس موقع پر نماز کی طرح ہاتھ باندھنے کو منع فرمایا ہے مگر دوسرے بعض اکابر رحمه الله نے اس کو آداب میں شمار کیا ہے، چنانچہ شیخ عبد الحق رحمه الله نے لکھا ہے: "ودر وقتِ آنحضرت ﷺ ووقوفِ درآں جناب باعظمت دستِ راست بر دستِ چپ نہند، چنانچہ در حالتِ نماز کند، کرمانی کہ از علمائے حنفیہ است تصریح بایں معنی کردہ است" (جذب القلوب ص ۲۱۷) لہذا اس میں تشدد نہیں چاہیے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۳/۱۲۰، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.