ترقیاتی قرضے مانعِ زکوٰۃ نہیں ہے:
Question
طویل المیعاد قرض کو مالک کی اصل رقم سے وضع کیا جائے گا یا نہیں یا پوری رقم پر زکوۃ لازم ہے؟ یعنی طویل المیعاد دین مانعِ زکوٰۃ ہے یا نہیں؟
Answer
طویل المیعاد ترقیاتی قرضوں میں ہر سال ادا طلب قسط کو اس سال کی زکوٰۃ سے علیحدہ کر کے باقی مالیت پر زکوٰۃ واجب ہو گی یعنی پورا قرض زکوۃ سے منہا نہیں کیا جائے گا اور مانعِ زکوٰۃ نہ ہوگا ۔
ملاحظہ ہو حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
(قوله المؤجل) وقيل المهر المؤجل لا يمنع لأنه غير مطالب به عادة بخلاف المعجل وقيل إن كان الزوج عزم على الأداء منع وإلا فلا، لأنه لا يعد ديناً بحر عن غاية البيان، وفي القهستاني والصحيح أن المؤجل غير مانع كما في الجواهر. (حاشية الطحطاوي على الدر: ۱/۳۹۱).
شامی میں ہے:
(قوله أو مؤجلا) عزاه في المعراج إلى شرح الطحاوي وقال: وعن أبي حنيفة رحمه الله لا يمنع وقال الصدر الشهيد: لا رواية فيه ولكل من المنع وعدمه وجه، زاد القهستاني عن الجواهر والصحيح أنه غير مانع. (شامي: ۲/۲٦۱، سعيد).
بدائع الصنائع میں ہے:
وعلى هذا يخرج مهر المرأة فإنه يمنع وجوب الزكاة عندنا معجلاً كان أو مؤجلاً لأنها إذا طالبته يؤاخذ به، وقال بعض مشايخنا: إن المؤجل لا يمنع لأنه غير مطالب به عادة. (بدائع الصنائع: ۲/٦).
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
السراجية: الدين المؤجل قال بعضهم: يمنع الزكاة، وذكر مجد الأئمة السرخسي رحمه الله عن مشايخه أنه لا يمنع. (الفتاوى التاتارخانية: ۲/۲۹۲).
جدید فقہی مباحث میں ہے:
زکوٰۃ کے مسئلہ پر غور کرتے ہوے ضروری ہے کہ فقہی جزئیات سے پَرے اٹھ کر شریعت کے مقصد و منشا اور احکامِ زکوٰۃ کی روح کو بھی ملحوظ رکھا جائے، ظاہر ہے کہ زکوٰۃ کے سلسلہ میں شریعت کی روح یہ ہے کہ انسان اپنے مال میں خدا کے واسطہ سے اس غریب بندوں کا حق بھی محسوس کرے اور غربا پر خرچ کرے، اسی لئے فقہاء کے یہاں یہ قاعدہ مقرر ہوا کہ جہاں وجوب اور عدم وجوب دونوں پہلو موجود ہو وہاں اس پہلو کو ترجیح دی جائے جس میں فقراء کو فائدہ ہو تا ہے اب صورت حال یہ ہے کہ اس زمانہ میں تجارت اور کاروبار کے لئے ترقیاتی قرضوں کا رواج عام ہے جو طویل مدت میں اور آسان اقساط پر ادا طلب ہو تا ہے، مقروض اس پیسہ سے بڑے بڑے معاشی فائدے حاصل کرتا ہے اور یہ رقم اس کے پاس جامد نہیں ہوتی بلکہ گردش میں رہتی ہے اور فقہاء کی زبان میں بالفعل مالِ نامی کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن اگر اس دین کو زکوٰۃ سے مانع قرار دیا جائے تو فقراء ہمیشہ اپنے حق سے محروم رہیں گے، اس لئے جیسے متأخرین علماء نے بدلے ہوے حالات کے پیشِ نظر عورتوں کے دین مہر کو زکوٰۃ میں مانع نہیں مانا ہے، یہ بات عین مناسب ہے کہ طویل مدتی استثماری دیون میں ہر سال کی ادا طلب قسط کو اس سال کی زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور باقی مالیت پر زکوٰۃ واجب قرار دی جائے، اس پر فقہاء کے اس جزئیہ سے بھی روشنی ملتی ہے جس میں بیوی کے نفقے کے دین کو زکوٰۃ سے مانع نہیں مانا گیا ہے اور وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ نفقہ ایک ساتھ واجب نہیں ہوتا، بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے واجب ہوتا ہے ۔ "
لأنها تجب شيئاً فشيئاً فتسقط إذا لم يوجد قضاء القاضي أو التراضي"
بدائع، امداد الفتاوی، فتاوی دار العلوم ۔ (جدید فقہی مباحث: ۷/۷٤۹) ۔
مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: جدید فقہی مسائل: ۱/۲۱٤ نعیمیہ ۔ و ایضاح النوادر: حصۂ دوم: ۳۷، مناسب و معتدل حکم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.