پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ کا حکم:
Question
پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟
Answer
تنخواہ سے جو رقم حکومت کاٹتی ہے وہ استحقاق کے زمرے میں آتی ہے ملکیت نہیں، لہذا وصولی سے پہلے اس پر زکوٰۃ نہیں، اور حکومت جو سود اس رقم پر دیتی ہے وہ سود نہیں، کیوں کہ سود اپنی مملوکہ رقم پر مشروط اضافے کا نام ہے، جب کہ یہ رقم مملوکہ نہیں، ہاں اگر اپنی رقم بینک میں جمع کرا کے اس کا مشروط نفع لے تو وہ سود اور حرام کہلائے گا ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:
فنقول قسم أبو حنيفة رحمه الله الدين على ثلاثة أقسام: إلى قوله
وضعيف وهو بدل ما ليس بمال كالمهر والوصية وغيره إلى قوله
وفي الضعيف لا تجب ما لم يقبض نصاباً ويحول عليه الحول بعد القبض عليه. (فتح القدير: ۲/۱٦۷، كتاب الزكاة، دار الفكر).
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما دين الوسط فما وجب له بدلاً عن مال ليس للتجارة (إلى قوله) وفيه روايتان عنه وروى ابن سماعة عن أبي يوسف رحمه الله عن أبي حنيفة رحمه الله أنه لا زكاة فيه حتى يقبض المائتين ويحول عليه الحول من وقت القبض وهو أصح الروايتين عنه الخ. (بدائع الصنائع: ۲/۱۰، سعيد).
جدید فقہی مباحث میں ہے:
سرکاری محکموں اور دیگر پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کی تنخواہ میں سے جو حصہ فنڈ کے نام کا ٹ کر جمع کر لیا جاتا ہے اور اس پر مزید اضافہ کے ساتھ محفوظ کر لیا جاتا ہے اور ریٹائر منٹ کے وقت اصل رقم اور اضافہ دونوں ملازم کو مل جاتے ہیں تو ایسی صورت میں تفصیل یہ ہے کہ فنڈ کی رقم بالاتفاق دین قوی کے دائرہ میں داخل نہیں ہوتی اور دین ضعیف کے دائرہ میں داخل ہونا زیادہ راجح ہے اس لئے کہ ملازم کا اس رقم پر ابھی قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے ملازم کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی ہے اسی وجہ سے اضافہ شدہ رقم کو سود کے دائرہ میں داخل نہیں کیا جاتا ہے اور دین ضعیف میں قبضہ کے بعد بالاتفاق سنین ماضیہ کی زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی ہے، اس لئے پراویڈنٹ فنڈ پر ماضی کی زکوٰۃ واجب نہ ہو گی ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۴۹، فتاوی محمودیہ: ۳/۵۱، کفایت المفتی: ٤/۲۸۸و۲٤٦، جواہر الفتاوی: ۱/۳۸۵، فتاوی رحیمیہ: ۵/۱٤۷، عزیز الفتاوی: ۳٦۸) ۔
أما دين الوسط فما وجب له بدلاً عن مال ليس للتجارة (إلى قوله) وفيه روايتان عنه
الخ. بدائع: ۲/۱۰، منحة الخالق: ۲/۲۰۷، ومثله في الشامي: ۲/۳۰٦ و مثله في مجمع الأنهر: ۱/۱۹۵. (
جدید فقہی مباحث: ٦/۲۹۰، ادارۃ القرآن العلوم الاسلامیہ) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
پراویڈنٹ فنڈ پر جو رقم محکمہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور اسی طرح دونوں رقموں کے مجموعے پر جو رقم سود کے نام سے بڑھائی جاتی ہے یہ سب رقم جائز ہے، یہ شرعاً سود نہیں ہے اگر چہ محکمہ اس کو سود کے نام سے موسوم کرتا ہے اور ان تمام رقوم کی زکوٰۃ ادا کرنے کا یہ حکم ہے کہ وصولی رقم کے بعد ان کی زکوٰۃ ادا کی جائے وصول ہونے سے پہلے ادائیگی زکوٰۃ لازم نہیں ۔ (کفایت المفتی: ۸/۹۷، دار الاشاعت) ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
ملازمان کی تنخواہ میں سے کچھ روپیہ وضع ہوتا ہے اور پھر اس میں کچھ رقم ملا کر بوقتِ ختم ملازمت ملازموں کو ملتا ہے وہ ایک انعام سرکاری سمجھا جاتا ہے اس کی زکوٰۃ گزشتہ برسوں کی واجب نہیں ہوتی، آئندہ کو بعد وصول کے جب سال بھر نصاب پر گزر جاوے گا اس وقت زکوٰۃ دینا لازم ہوگا ۔
وعند قبض مائتين مع حولان الحول بعده أي بعد القبض من دين ضعيف وهو بدل غير مال كمهر ودية وبدل كتابة. الدر المختار: ۲/٤۹، باب زكاة المال، سعيد. (
فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۳۳۱، مدلل و مکمل) ۔
مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: ایضاح النوادر: حصۂ دوم ص ۳۱، مکتبہ علمیہ سہارنپور، و جدید فقہی مسائل: از مولانا برہان الدین سنبھلی ص ۱۲۴، ادارہ اسلامیات، لاہور ۔ فتاوی قاضی خان: ۱/۲۵۲، فتاوی عالمگیری: ۱/۱۷۴ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.