مشترک کاروبار میں وجوبِ زکوٰۃ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #83Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۱): وجوبِ زکوٰۃ کا بیان

Question

ایک مشترک کمپنی یا فیکٹری ہے جس میں کئی حصہ دار ہیں، تو کیا کمپنی پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ اور اس کی ادائیگی کا کیا طریقہ ہے؟

Answer

کسی کمپنی کی حیثیت بذاتِ خود نہیں ہوتی بلکہ تاجروں کی تجارت سے ہوتی ہے، لہذا مشترکہ کاروبار کے حصہ داروں کی زکوٰۃ مجموعی رقم پر یا مجموعہ مال پر واجب نہیں، بلکہ ہر شریک کی زکوٰۃ اس کے حصہ کے حساب سے واجب ہو گی، تو جس شریک کا حصہ نصاب تک نہیں پہنچتا اور اس کے علاوہ دیگر مال بھی نہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی، اور ہر شریک اپنے حصہ کی زکوٰۃ خود ادا کرے گا ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

ولا تجب الزكاة عندنا في نصاب مشترك من سائمة ومال تجارة وإن صحت الخلطة

وإن تعدد النصاب تجب إجماعاً، ويتراجعان بالحصص، وبيانه، في الحاوي، فإن بلغ نصيب أحدهما نصاباً زكاه دون الآخر، قوله في نصاب مشترك، المراد أن يكون بلوغه النصاب بسبب الاشتراك وضم أحد المالين إلى الآخر بحيث لا يبلغ مال كل منهما بانفراده نصاباً. قوله وإن تعدد النصاب، أي بحيث يبلغ قبل الضم مال كل واحد بانفراده نصاباً فإنه يجب حينئذٍ على كل منهما زكاة نصابه. (فتاوى الشامي: ۲/۳۰٤، سعيد).

بدائع الصنائع میں ہے:

فأما إذا كانت (السوائم) مشتركة بين اثنين فقد اختلف فيه قال أصحابنا أنه يعتبر في حال الشركة ما يعتبر في حال الانفراد وهو كمال النصاب في حق كل واحد منهما، فإن كان نصيب كل واحد منهما يبلغ نصاباً تجب الزكاة وإلا، فلا. (بدائع الصنائع: ۲/۲۸، سعيد).

مزید ملاحظہ فرمائیں: فتاوی دار العلوم: ٦/٦۷، مدلل و مکمل ۔ و ایضاح النوادر: ۲/۳۹ ۔ و امداد الفتاوی: ۳/۱۳۰، و فتاوی حقانیہ: ۳/۵۰٤ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.