Using Ihraam as a Kafan

· 10 Dhuʻl-Hijjah 1445 AH1 min readEnglish
Janaazah

Question

Can the Ihraam be adopted as one’s Kafan?

Answer

If a person makes a bequest that he wishes to be buried in his Ihraam, then such a bequest should not be adhered to as the Ihraam consists of 2 pieces of cloth, whilst the Sunnah Kafn is 3 pieces of clothing. In fact, even Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam was buried in 3 pieces of clothing.

ALLAH TA’ALA IN HIS INFINITE KNOWLEDGE KNOWS BEST!

References (Arabic / Urdu sources)

کپڑوں کی تعداد کے اعتبار سے کفن کی قسمیں:

کفن کے تین درجات ہیں: کفن سنت، کفن کفایہ اور کفن ضرورت ۔ کفن سنت مردوں کے لیے تین کپڑے ہیں ، اس لیے کہ نبی کریم ﷺ کو بھی تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا۔ اگر کوئی شخص دو کپڑوں کے بارے میں وصیت کرے تو اس پر عمل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کو تین کپڑوں میں کفن دیا جائے گا ،البتہ اگر زیادہ کی وصیت کرے تو تین سے زیادہ کپڑوں میں کفن دینا مکروہ نہیں۔ بلا وصیت بھی پانچ تک کپڑوں کی تعداد بڑھائی جاسکتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے بیٹے کو پانچ کپڑوں میں کفن دیا تھا۔ ان تین کپڑوں میں ایک قمیص ہوگی ، جس میں آستین اور گریبان نہیں ہوگا اور گردن سے پاؤں تک کے حصے کو شامل ہوگی ، دوسرا کپڑا ازار ہوگا ، جو سر سے پاؤں تک کے حصے کو شامل ہوگا، تیسرا کپڑا لفافہ ہے جو اس سے بھی کسی قدر بڑا ہوگا ، جس میں سرسے پاؤں تک مردہ کو لپیٹا جا سکے اور اوپر نیچے سے باندھا جا سکے۔)فتاوی عثمانيہ 3/198)

Answered by
Maulana Abdul Kader Fazlani
Checked & approved by
Mufti Mohammed Desai
Ask Ibn Masood

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Ifta Ibn Masood. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.