Women Performing The Taraweeh Salaah In Jamaat

· 2 Ramadan 1447 AH1 min readEnglish
SalaahTaraweeh

Question

Is it permitted for Huffadh girls to pray Taraweeh in Jamaat in Ramadhan if purdah etc is in place for the protection of the Quran. What is the Hanafi position?

Answer

It is Makrooh Tahreemi (prohibited) in the Hanafi Madhab for women to make Imaamat in every such Salaah in which Imaamat is مشروع may it be Fardh Salaah or Sunnah/Nafl Salaah such as Taraweeh Salaah.

To preserve the memorization of the Qur’aan-e-Majeed, other ways can be adopted such as reading a portion of the Qur’aan-e-Majeed daily to someone in the family and then that can be read in the Taraweeh and Nafl Salaah individually.

References (Arabic / Urdu sources)

رد المحتار على الدر المختار 3 \ 546

(و) يكره تحريماً (جماعةُ (النساء) ولو في التراويح

(٤٧٧١) (قوله ويكره (تحريما) صرَّحَ به في “الفتح” و”البحر

(٤٧٧٢) (قوله: ولو في التراويح) أفاد أنَّ الكراهة في كل ما تُشرَعُ فيه جماعة الرجال فرضاً أو نقلاً

الفتاوى الهندية 1 \ 143

ويكره إمامة المرأة للنساء في الصلوات كلها من الفرائض والنوافل، إلا في صلاة الجنازة، هكذا في النهاية». فإن فعلن وقفت الإمام ،وسطهن وبقيامها وسطهُنَّ لا تزول ،الكراهة، وإن تقدمت عليهنَّ إمامهن لم تفسد صلاتهن، هكذا في الجوهرة النيرة وصلاتهن فرادى أفضل، هكذا في الخلاصة

الفتاوى التاتارخانية ٢/٢٥٧ : ٢٣٥٦

وفيها: ويكره للمرأة أن تؤم النساء، لعدم ورود السنة بالجماعة في حقهن وإن فعلت قامت وسطهن.

الهداية 1 \ 198

ويُكره للنساء أن يصلين وحدهن الجماعة؛ لأنها لا تخلو عن ارتكاب محرم ” وهو قيام الإمام وسط الصف.

فتاوی محموديۃ. 7/280

عورت کی امامت تراویح میں

سوال [۳۳۹۴] : اگر کوئی عورت حافظ قرآن ہو تو مثل مردوں کے ختم فی التراویح بصورت امامت اور جماعت نساء اس کے لئے درست ہے یا کسی شرعی قباحت کو مستلزم ہے؟ اگر کوئی قباحت ہے، تو بقائے حفظ کی اہمیت و ضرورت بقاعده الضرورات تبيح المحظورات وبقاعده الكراهية ترتفع عند العذر والحاجة“ اس قباحت پر غالب ہوگی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلياً :

وكره جماعة النساء بواحدة منهن. مراقى الفلاح. (قوله : وكره جماعة النساء) تحريماً للزوم أحد المحظورين : قيام الإمام فى الصف الأول وهو مكروه، أو تقدم الإمام و هو أيضاً مكروه في حقهن الخ. طحطاوی ، ص : ١٦٦ (١) ۔

عبارت منقولہ سے معلوم ہوا کہ عورت کا امام بن کر عورتوں کو نماز پڑھانا مکروہ تحریمی ہے۔ بقائے حفظ کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ خارج نماز میں روزانہ والدہ ، والد، بھائی، بہن، شوہر، اولاد کسی کو سنا دیا کرے اور جتنا سنائے اس کو تراویح یا دوسری نمازوں میں پڑھ لیا کرے، اس سے حفظ بھی باقی رہے گا، اور نمازوں میں طویل قرآت کی عادت بھی ہو جائے گی اور کوئی محظور بھی لازم نہیں آئے گا۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔

حرره العبد محمود غفر له، دارالعلوم دیو بند ۔

فتاوی رحیمیۃ 6/233 (ط: دار الاشاعت)

عورتوں کو تراویح میں جماعت کرنا کیسا ہے؟:

(سوال 202 ) عورتیں اپنی تراویح با جماعت ادا کر سکتی ہیں یا نہیں؟

(الجواب ) عورتوں کو چاہئے کہ پنجگانہ نماز اور نماز تراویح اور وتر منفرد ( تنہا تنہا) پڑھیں ان کے لئے جماعت کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ البتہ اگر ایسی شکل پیش آ جائے کہ کوئی میت ہے۔ مرد کوئی نہیں صرف عورتیں ہی عورتیں ہیں تو وہ جنازہ کی نماز پڑھیں اور نماز کی جماعت کرلیں۔ (در مختار مع الشامی ج ۱ ص ۵۲۸)(۱) فقط والله علم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل 4/198

کیا حافظ قرآن عورت ، عورتوں کی تراویح میں امامت کر سکتی ہے؟

سوال : عورت اگر حافظ ہو کیا وہ تراویح پڑھا سکتی ہے؟ اور عورت کے تراویح پڑھانے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب : عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ہے، اگر کرائیں تو امام آگے کھڑی نہ ہو، جیسا کہ امام کا مصلیٰ الگ ہوتا ہے، بلکہ صنف ہی میں ذرا کو آگے ہو کر کھڑی ہوں اور عورت تراویح سنائے تو کسی مرد کو ( خواہ اس کا محرم ہو ) اس کی نماز میں شریک ہونا جائز نہیں ۔ (۳)

Approved by
Mufti Muhammed Saeed Motara Saheb D.B.
Ask Azaadville

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Ifta, Darul Uloom Azaadville. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.