عورت کے لئے زیورات کی زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #103Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۳): زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان

Question

ایک عورت مطلقہ ہے اس کے پاس صرف زیورات ہیں جو زکوٰۃ کے نصاب سے زیادہ ہیں اس کے پاس اور کوئی روپیہ نہیں ہے، تو وہ زکوٰۃ کیسے ادا کرے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں عورت کے پاس نصاب سے زائد زیورات ہیں لہذا زکوٰۃ دینا لازم ہے، اگر اس کے پاس نقد پیسہ نہیں تو ہر ماہ تھوڑی تھوڑی رقم ادا کر دے پھر زیورات بیچنے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده، أن امرأتين أتتا رسول الله ﷺ وفي أيديهما سواران من ذهب، فقال لهما: أتؤديان زكاته فقالتا: لا، فقال لهما رسول الله ﷺ: أتحبان أن يسوركما الله بسوارين من نار، قالتا: لا، قال: فأديا زكاته. (ترمذي شريف: ۱/۱۳۸، باب ما جاء في زكاة الحلي، فيصل).

کفایت المفتی میں ہے:
عورت اپنے زیور اور جہیز کی مالک ہوتی ہے اور اسی کے ذمہ اس کی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اور چونکہ اس کے پاس زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے روپیہ نہیں ہوتا اس لئے خاوند سے لے کر ادا کرتی ہے یا اس کے امر و اجازت سے خاوند ادا کر دیتا ہے، اگر خاوند ادا نہ کرے نہ روپیہ دے تو عورت پر واجب ہوگا کہ وہ اپنا سامان بیچ کر ادا کرے کیوں کہ واجب اس کے ذمہ ہے ۔ (کفایت المفتی: ٤/۲٦٦، کتاب الزکاۃ، پہلا باب، دار الاشاعت) ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
جو زیور زوجہ کا مملوکہ و مقبوضہ ہے اور بقدر نصاب ہے اس کی زکوٰۃ اس عورت کے ذمہ ہی واجب ہے اگر اس کا شوہر تبرعاً اس کی طرف سے دے دے یا عورت اس سے لے کر دے دے یا جو خرچ اس کا شوہر اس کو دیتا ہے اس میں سے ادا کر دے تو یہ جائز ہے اور اگر کچھ بھی نہ ہو اس کے تو پھر اس عورت کو اسی زیور میں سے زکوٰۃ دینی پڑے گی ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۲۸۵، مدلل و مکمل، دار الاشاعت) ۔
دوسری جگہ ہے: اگر اور کوئی صورت ادائیگی زکوٰۃ کی میسر نہ ہو تو بالضرور ایسا کیا جاوے گا کہ زیور کا کچھ حصہ بقدر زکوٰۃ، زکوٰۃ میں دیا جائے گا یہ فرض اللہ کا ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۱۰۹، مدلل و مکمل، دار الاشاعت) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
تھوڑا تھوڑا دینے سے بھی زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/٤٦٦، مبوب و مرتب جامعہ فاروقیہ) ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل:
بیوی یا تو اپنا جیب خرچ بچا کر زکوٰۃ ادا کرے یا زیورات کا ایک حصہ زکوٰۃ میں دے دیا کرے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/۳٤۵، مکتبہ لدھیانوی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.