مرہونہ زیورات پر زکوٰۃ کا حکم:
Question
رہن پر رکھے ہوے زیورات کی زکوٰۃ کس پر واجب ہے؟ راہن پر یا مرتہن پر؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں زیورات کا مالک راہن ہے مرتہن کے پاس فقط بطورِ امانت ہے لہذا راہن پر زکوٰۃ لازم ہو گی ۔
اور وجوبِ زکوٰۃ کی تفصیل حسبِ ذیل درج ہے:
(۱) اگر قرضہ ۵۰ ہزار ہے اور زیورات کی قیمت ۷۰ ہزار ہے تو ۵۰ ہزار قرضہ منہا کرنے کے بعد صرف ۲۰ ہزار پر زکوٰۃ واجب ہو گی ۔
(۲) ۵۰ ہزار قرضہ ہے اور قیمت ۵۲ ہزار ہے تو دو ہزار نصاب سے کم ہے اس لیے زکوٰۃ واجب نہیں، ہاں دوسری نقد رقم وغیرہ ملانے سے بقدرِ نصاب ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی ۔
(۳) زیورات کی قیمت قرضہ سے کم ہے تو زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
قلت: لكن أرجع شيخ مشايخنا السائحاني في قول الشارح "بعد قبضه" إلى المرتهن كما رأيته بخطه في هامش نسخته، ويؤيده أن عبارة البحر هكذا: ومن موانع وجوب الرهن إذا كان في يد المرتهن بعدم ملك اليد، وليس فيها ما يدل على أنه لا يزكيه بعد الاسترداد. (الشامي: ۲/۲٦۳، سعيد).
علامہ شامی رحمه الله نے علامہ سائحانی رحمه الله کی عبارت سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ واپسی کے بعد راہن پر زکوٰۃ واجب نہیں ۔ (یعنی راہن کے پاس واپسی کے بعد زکوٰۃ لازم ہونی چاہیے) ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولا علي الراهن إذا كان الرهن في يد المرتهن، هكذا في البحر الرائق. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۷۲).
اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک شئی مرہون مرتہن کے قبضہ میں ہے زکوٰۃ واجب نہیں لیکن راہن کے پاس آنے کے بعد لازم ہونی چاہیے ۔
فتاوی فریدیہ میں ہے:
رہن رکھے ہوے زیور میں زکوٰۃ:
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی کا زیور تقریباً بیس تولہ سونے کا ہے میں نے قرضہ چکانے کے لیے وہ زیور بیوی سے لے کر نیشنل بینک میں رہن رکھا ہوا ہے تقریباً دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے کہ میں نے تین ہزار روپیہ قرضہ اس زیور کی کفالت پر لیا ہوا ہے کیا ایسا زیور جو کہ اپنے قبضہ میں بھی نہ ہو اور زیر بار بھی ہو اس زیور پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟
الجواب: آپ ہر سال اس زیور کی قیمت سے مقدارِ قرضہ خواہ بینک سے لیا ہو یا اور کسی سے لیا ہو تفریق کر کے باقی زیور سے زکوٰۃ فی الحال ادا کریں گے بشرطیکہ مقدار نصاب سے کم نہ ہوا ہو ۔ (فتاوی فریدیہ: ۳/٤۱۹) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر زید نے عمر کے پاس ۱۰ تولہ سونا بطورِ رہن رکھا اور زید پر عمر کا دین ۲ تولہ سونے کی قیمت کی مقدار میں ہے تو زید پر لازم ہے کہ ۸ تولے سونے کی زکوٰۃ ادا کرے کیوں کہ یہ زائد ۸ تولے سونا عمر کے پاس زید کی امانت کے مانند ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.