رینڈ کے ساتھ سونا ملا کر وجوبِ زکوۃ کا حکم:
Question
اگر کسی کے پاس دو رینڈ ہیں اور آدھا اونس سونا ہے اور سونے کی قیمت کو رینڈ کے ساتھ ملا دینے سے نصاب پورا ہو جاتا ہے تو زکوۃ واجب ہو گی یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں سونے کی قیمت رینڈ کے ساتھ ملانے سے نصاب پورا ہو جاتا ہے تو زکوٰۃ واجب ہو گی اور اگر نصاب پورا نہیں ہوتا تو زکوٰۃ واجب نہیں ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
وتضم قيمة العروض إلى الثمانين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز حتى لو ملك مائة درهم وخمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده
يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء قدراً ورواجاً. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۷۹، في زكاة الذهب والفضة).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
نقد پانچ روپے زائد از ضرورت اور تین تولہ سونا ہو تو زکوٰۃ اس لئے فرض ہو جاتی ہے کہ نقد رقم چاندی، سونے کے حکم میں ہے اور تین تولہ سونا اور نقد پانچ روپے مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جاتے ہیں اس لئے زکوٰۃ واجب ہو جائے گی ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۱٦٦، کتاب الزکوٰۃ) ۔
نوٹ: یہ مسئلہ اس وقت ہے جب کہ چاندی کو معیارِ نصاب بنایا جائے، لیکن اگر سونا معیارِ نصاب ہو تو پھر زکوٰۃ واجب نہیں، جس کی تفصیل عنقریب آپ ملاحظہ فرمائیں گے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.