۱۰/ رینڈ اور ایک چوتھائی اونس پر زکوٰۃ کا حکم:
Question
آج کل چاندی کا نصاب بہت کم ہے، اگر کسی بالغ لڑکی کے پاس ۱۰ رینڈ اور اونس کا چوتھائی سونے کا زیور ہے تو اس پر زکوۃ فرض ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں سونے کی قیمت رینڈ کے ساتھ ملانے سے چاندی کا نصاب پورا ہو جاتا ہے تو زکوٰۃ واجب ہو گی اور اگر نصاب پورا نہیں ہوتا تو زکوٰۃ واجب نہیں ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وتضم
الذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز حتى لو ملك مائة درهم وخمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده. (فتاوى هندية: ۱/۱۷۹، فصل في زكاة الذهب والفضة. وكذا في الهداية: (۱/۱۹٦، فصل في العروض).
ہدایہ میں ہے:
ثم قال: يقومها بما هو أنفع للمساكين احتياطا لحق الفقراء، قال: وهذا رواية عن أبي حنيفة رحمه الله. (الهداية: ۱/۱۹۵، فصل في العروض، شركة علمية، والشامي: ۲/۲۹۹، سعيد).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
نقد پانچ روپے زائد از ضرورت اور تین تولہ سونا ہو تو زکوٰۃ اس لئے فرض ہو جاتی ہے کہ نقد رقم چاندی، سونے کے حکم میں ہے اور تین تولہ سونا اور نقد پانچ روپے مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جاتے ہیں اس لئے زکوٰۃ واجب ہو جائے گی ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۱٦٦، کتاب الزکوٰۃ) ۔
مزید ملاحظہ ہو: آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/۳۵٤، ۳۵۵، و جدید فقہی مسائل: ٦/۱٤ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
سونے چاندی کی قیمت کی تبدیلی کے وقت نصاب شمار کرنے کا حکم:
سوال: اس زمانہ میں سونے چاندی کی قیمت ہمیشہ بدلتی رہتی ہے تو زکوٰۃ کس طرح ادا کرے؟
الجواب: جس دن پیسے کا مالک بن جائے اگر وہ نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے تو اسی دن سے حولانِ حول کا حساب شروع ہوگا، پھر سال ختم ہونے پر اس کی زکوۃ ادا کرے گا، اور اگر سونے چاندی کا نصاب نہیں بنتا لیکن مالِ تجارت وغیرہ کو ملانے سے چاندی کا نصاب بن جاتا ہے تو چاندی کے نصاب کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کرے گا ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
ليس فيما دون مائتي درهم صدقة، لقوله عليه السلام: "ليس فيما دون خمس أواق صدقة" والأوقية أربعون درهماً، فإذا كانت مائتين وحال عليها الحول ففيها خمسة دراهم، لأنه عليه السلام كتب إلى معاذ رضي الله عنه أن خذ من كل مائتي درهم خمسة دراهم ومن كل عشرين مثقالاً من ذهب نصف مثقال. (الهداية: ۱/۱۹٤، باب زكاة المال).
در مختار میں ہے:
وسببه ملك نصاب حولي تام، وفي الشامي: (قوله نصاب) هو ما نصبه الشارع علامة على وجوب الزكاة من المقادير المبينة في الأبواب الآتية، وهذا شرط في غير زكاة الزرع والثمار
. قوله نسبة للحول لحولانه عليه أي دون حولان الحول على النصاب شرط لكونه سبباً وهذا علة للنسبة. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۲۵۹، سعيد).
کتاب الفتاوی میں ہے:
زکوٰۃ میں حساب اس تاریخ کے لحاظ سے کیا جاتا ہے جس تاریخ کو وہ پہلی بار نصابِ زکوٰۃ کا مالک بنا ہے، اس وقت جو رقم کسی کے پاس محفوظ ہو یا سونا چاندی، شیرز، سامانِ تجارت یا قرض جس کی وصولی متوقع ہو، موجود ہو، ان کا حساب کیا جائے اور ہر ہزار پر ۲۵ روپے کے لحاظ سے زکوٰۃ ادا کی جائے، اس میں نہ آمدنی ملحوظ ہے اور نہ بجٹ، بلکہ اس تاریخ کو اموالِ زکوٰۃ میں سے جو کچھ اس کے پاس موجود ہو اس سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی ۔ (کتاب الفتاوی تیسرا حصہ ص ۲٦۵، نعیمیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
شوہر کے پاس کچھ نہ ہو لیکن بیوی کے پاس زیورات ہوں تو زکوٰۃ کا حکم:
سوال: اگر شوہر کی کوئی تنخواہ نہ ہو لیکن بیوی کے پاس زیورات ہوں تو کیا زکوٰۃ لازم ہو گی؟ اور نکالنے کا طریقہ کیا ہے؟
الجواب: صورتِ مسئولہ میں اگر چہ شوہر کی کوئی تنخواہ یا آمدنی نہ ہو پھر بھی بیوی پر زکوٰۃ لازم ہو گی اس لئے کہ وہ زیورات کی مالکہ ہے بشرطیکہ زیورات نصاب تک پہنچتے ہوں ۔
ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده، أن امرأتين أتتا رسول الله ﷺ وفي أيديهما سواران من ذهب، فقال لهما: أتؤديان زكاته، فقالتا: لا، فقال لهما رسول الله ﷺ: أتحبان أن يسوركما الله بسوارين من نار، قالتا: لا، قال: فأديا زكاته. (ترمذي شريف: ۱/۱۳۸، باب ما جاء في زكاة الحلي، فيصل).
ہدایہ میں ہے:
الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا بلغ نصاباً ملكاً تامّاً وحال عليه الحول. (الهداية: ۱/۱۸۵).
کفایت المفتی میں ہے:
عورت اپنے زیور اور جہیز کی مالک ہوتی ہے اور اسی کے ذمہ اس کی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اور چونکہ اس کے پاس زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے روپیہ نہیں ہوتا اس لئے خاوند سے لے کر ادا کرتی ہے یا اس کے امر و اجازت سے خاوند ادا کر دیتا ہے، اگر خاوند ادا نہ کرے نہ روپیہ دے تو عورت پر واجب ہوگا کہ وہ اپنا سامان بیچ کر ادا کرے کیوں کہ واجب اس کے ذمہ ہے ۔ (کفایت المفتی: ٤/۲٦٦، کتاب الزکاۃ پہلا باب، دار الاشاعت) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
قرآن و حدیث میں سونے اور چاندی پر مطلقاً زکوٰۃ واجب قرار دی گئی ہے (سورۂ توبہ) بلکہ احادیث میں رسول اللہ ﷺ کا صراحۃً ان زیورات کے بارے میں بھی زکوٰۃ کی تلقین کرنا ثابت ہے جن کو صحابیات (رضي الله تعالى عنهن) پہنی ہوتی تھیں (ترمذی)، اس لئے امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک سونے اور چاندی پر ہر صورت میں زکوٰۃ واجب ہے، خواہ وہ زیورات کی شکل میں ہوں یا نہ ہوں اور خواہ زیورات زیر استعمال ہوں یا نہ ہوں ۔ (کتاب الفتاوی: تیسرا حصہ ص: ۲۸۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.