سونے چاندی کی ناک کان وغیرہ پر زکوٰۃ کا حکم:
Question
کسی نے ضرورت کی وجہ سے سونے چاندی کی ناک کان بنوائے ہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں سونے چاندی کے مصنوعی اعضاء اس طرح جڑے ہیں کہ بآسانی الگ ہو سکتے ہیں اور نکل سکتے ہیں تو اس صورت میں زکوٰۃ واجب ہو گی، لیکن اگر نکالے نہیں جا سکتے ہیں تو انسان کے عضو کی طرح ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده، أن امرأتين أتتا رسول الله ﷺ وفي أيديهما سواران من ذهب، فقال لهما: أتؤديان زكاته، فقالتا: لا، فقال لهما رسول الله ﷺ: أتحبان أن يسوركما الله بسوارين من نار، قالتا: لا، قال: فأديا زكاته. (ترمذي شريف: ۱/۱۳۸، باب ما جاء في زكاة الحلي)
امداد الفتاوی میں ہے:
سونے کی ناک بنوا کر چہرے پر لگاتے ہیں اور یہ ناک بلا حرج جدا بھی ہو سکتی ہے تو اس ناک میں زکوٰۃ واجب ہے، لیکن دانت میں جو سونا لگایا یا بھرا ہوا ہے وہ اس طرح جدا نہیں ہو سکتا لہذا اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ۔ (امداد الفتاوی: ۲/٤۹، سونے کی بنائی ہوئی ناک یادانتوں پر زکوٰۃ) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
بعض حالات میں بعض خاص مصلحت کے پیش نظر سونے چاندی کے مصنوعی اعضاء کا استعمال کیا جاتا ہے جیسے ناک، دانت، کھوکھلے دانتوں کا سونے چاندی سے بھرنا، سونے کے تاروں سے دانت کو باندھنا وغیرہ ان کا حکم یہ ہے کہ اگر ان کو بآسانی نکالا جا سکتا ہے تو ان میں زکوٰۃ واجب ہو گی، جیسے رسول اللہ ﷺ نے زیورات میں زکوٰۃ واجب قرار دی ہے، لیکن اگر ان کو آسانی سے نکالا نہیں جا سکتا بلکہ وہ مستقل طور پر لگا دیے گئے ہیں اور انسان کے جسم کا ایک ایسا عضو بن جائے جس کو الگ کیا جانا ممکن نہ ہو تو اب وہ انسان کی بنیادی ضروریات میں داخل ہو گیا اور ایسی چیزوں میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ۔ (ملخص از جدید فقہی مسائل: ۱/۲۰۸، سونے چاندی کے مصنوعی اعضاء پر زکوٰۃ، نعیمیہ) ۔
نیز ملاحظہ فرمائیں: ایضاح المسائل: ۱۰۸، نعیمیہ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.