زکوٰۃ کی رقم منی آرڈر کرنے سے ادائیگی کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #105Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۳): زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان

Question

اگر کسی نے زکوٰۃ کی رقم منی آرڈر کی تو زکوٰۃ ادا ہوئی یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں فقیر کے پاس زکوٰۃ کی رقم منی آرڈر کرنے سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے، یعنی ڈاک کے حوالہ کرنے سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے، اگر چہ درمیان میں ضائع ہو جائے دوبارہ ادا کرنا لازم ادا کرنا لازم و ضروری نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی رحیمیہ میں ہے:
زکوٰۃ کی رقم بذریعہ منی آرڈر اور ڈرافٹ بھیجی جا سکتی ہے، کیوں کہ مجبوری ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۱٦٤) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:

في الدر المختار مسائل متفرقة من كتاب الهبة: تمليك الدين ممن ليس عليه الدين باطل إلا في ثلاث: حوالة أو وصية وإذا سلطه أي سلط المملك غير المديون على قبضه أي الدين فيصح حينئذٍ ومنه ما لو وهبت من ابنها ما على أبيه فالمعتمد الصحة للتسليط.
اس جزئیہ
"ومنه ما لو وهبت

"
سے معلوم ہوا کہ صورتِ تسلیط میں بالفعل تملیک ہوتی ہے، ورنہ صحت کو تسلیط سے معلل نہ کیا جاتا کیوں کہ قبض حسی کے وقت تو صحت ہبہ میں کوئی تردد ہی نہیں پھر اس میں ترجیح صحت کے کوئی معنی نہیں، اس سے ثابت ہوا کہ خود تسلیط تملیک ہے، گو قبل القبض اس تسلیط سے عزل جائز ہو لعدم تمام العقد پس جب تسلیط تملیک ہے، اور تملیک کے وقت نیت اداء زکوٰۃ کافی ہے، اور منی آرڈر بھیجنے میں یقیناً تسلیط ہے، لہذا روانگی منی آرڈر کے وقت نیت کافی ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۲۵، ادائے زکوٰۃ بذریعہ منی آرڈر) ۔
ایضاح المسائل میں ہے:
اگر زکوٰۃ کی رقم فقیر کے پاس منی آرڈر کر دی جائے تو زکوٰۃ کی نیت سے ڈاک کے حوالہ کر دینے سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے، لہذا اگر اس کے بعد درمیان میں ضائع ہو جائے تو دوبارہ زکوٰۃ لازم نہ ہو گی ۔ (ایضاح المسائل: ۱۲۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.