غریب بھائی، بہن کو زکوٰۃ دینے کا حکم:
Question
اگر کسی کے بھائی، بہن غریب اور مستحقِ زکوٰۃ ہیں تو مال دار بھائی ان کو زکوٰۃ دے سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
مستحقِ زکوٰۃ بھائی، بہن کو زکوٰۃ دینا جائز بلکہ اولیٰ ہے اس لئے کہ اس میں صلہ رحمی بھی ہے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولاً إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأخوال والخالات ثم إلى أولادهم ثم إلى ذوي الأرحام ثم إلى الجيران ثم إلى أهل حرفته ثم إلى أهل مصره أو قريته كذا في السراج الوهاج
۔
(الفتاوى الهندية: ۱/۱۹۰، في المصارف)
۔
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
وفي المضمرات: الأفضل صرف الزكاتين، يعني صدقة الفطر وزكاة المال إلى أحد هٰؤلاء السبعة، الأول: إخوته الفقراء وأخواته، ثم إلى أولادهم، ثم إلى أعمامه الفقراء
.. (الفتاوى التاتارخانية: ۲/۲۷۱، بمن توضع فيه الزكاة، إدارة القرآن)
۔
ایضاح المسائل میں ہے:
عزیز و اقارب یعنی بھائی بہن، چچی، پھوپھی، خالہ، ماموں، وغیرہ اور ان کی اولاد کو زکوٰۃ دینے میں دو ثواب ملتے ہیں، (۱) ادائے زکوٰۃ کا ثواب (۲) صلہ رحمی کا ثواب، لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ یہ لوگ صحیح معنی میں زکوٰۃ کے مستحق ہوں ۔ (ایضاح المسائل: ص ۱۱۰، نعیمیہ ۔ و احسن الفتاوی: ٤/۲۶۹ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۹/۵۴۱، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.