زکوٰۃ کی رقم سے قرآن خرید کر غریب طلبہ کو دینے کا حکم:
Question
زکوٰۃ کی رقم سے قرآنِ کریم کے نسخے خرید کر غریب طلبہ کو ہدیہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
غریب طلبہ کو قرآنِ کریم کا مالک بنا دیا جائے تو درست ہے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی ۔
قال في الدر المختار: هي تمليك خرج الإباحة، فلو أطعم يتيماً ناوياً الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم، لأنه بالدفع إليه بنية الزكاة يملكه. (الدر المختار: ۲/۲۵۷، سعيد).
کتاب المسائل میں مرقوم ہے:
زکوٰۃ کی رقم سے طلبہ کو کتابیں تقسیم کرنا جائز ہے، بشرطیکہ با شعور و مستحق زکوٰۃ ہو ۔ (کتاب المسائل: ۲/۲٦۲، ط: نعیمیہ دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.