اکابر رحمہم الله کی اختیار کردہ صدقۃ الفطر کی صحیح مقدار:
Question
یہ تو متفق علیہ ہے کہ صدقۃ الفطر گندم سے نصف صاع اور جو سے ایک صاع ہے لیکن کیلو کے اعتبار سے نصف صاع کتنا ہوتا ہے؟
Answer
اکثر اکابر رحمه الله نے لکھا ہے کہ نصف صاع انگریزی تول سے پونے دو سیر ہوتا ہے ۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله قدس سرہ کے رسالہ "الطرائف و الظرائف" میں مرقوم ہے:
ایک مد حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کے پاس تھا جس کی مسلسل سند حضرت زید بن ثابت رضي الله عنه کے مد تک
(جو انہوں نے حضرت رسول اللہ ﷺ کے مد سے ناپ کر بنایا تھا) پہنچتی ہے اس کو حضرت مولانا تھانوی قدس سرہ نے دو مرتبہ بھر کر وزن کیا (کیونکہ دو مد کا ہوتا ہے) تو ۸۸ تولہ کے سیر سے سیر چھٹانک ہوا تھا ۔ (الطرائف و الظرائف: حصۂ دوم: ص۱۲) ۔
اس حساب سے نصف صاع کا وزن ایک سو چالیس تولہ تین ماشہ ہوتا ہے جو کہ ۸۰ تولہ کے سیر سے پونے دو سیر ہوتا ہے ۔
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
احتیاط اسی میں ہے کہ اسی تولہ کے سیر سے پونے دو سیر گندم ایک صدقۃ الفطر میں نکالے جاویں ۔ (اوزانِ شرعیہ: ص: ۳۸) ۔
مولانا خالد سیف اللہ فرماتے ہیں:
ہندوستان کے اکثر اربابِ افتاء کی رائے مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله کی رائے کے قریب ہے ۔ (کتاب الفتاوی: تیسرا حصہ: ۳٦۲، زمزم) ۔
یعنی جدید حساب سے جب ایک تولہ ٦٦٤، ۱۱ گرام کے برابر ہے تو ۱٤۰ تولہ ۹٦، ٦۳۲، ۱ کلوگرام ہوگا ۔
مولانا مجیب اللہ ندوی رحمہ اللہ اسلامی فقہ میں تحریر فرماتے ہیں:
صدقہ فطر میں اگر کوئی گیہوں یا اس کا آٹا دے تو اس کو ۸۰ تولے کے سیر سے پونے دو سیر گیہوں یا آٹا دینا چاہیے اس زمانہ میں سب سے بہتر یہ ہے کہ صدقۂ فطر میں غلہ کے ب جائے پونے دو سیر گیہوں یا ساڑھے تین سیر جو کی قیمت جتنی ہو دے دے ۔ (اسلامی فقہ: ۱/٤۲۲) ۔
مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب جو ایک محقق عالم گزرے ہیں عمدۃ الفقہ میں فرماتے ہیں:
انگریزی سیر کے وزن سے یعنی جو سیر کے اسی تولہ کا ہوتا ہے اور ہندوستان و پاکستان میں رائج ہے اس کے حساب سے ایک صاع تقریباً ساڑھے تین سیر اور نصف صاع پونے دو سیر کا ہوتا ہے یہی مفتی بہ ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/۱۷۰، مجددیہ) ۔
حضرت تھانوی رحمه الله کے خطبات الجمعہ کے آخر میں جو صدقۃ الفطر کے احکام چھپے ہیں اس میں بھی پونے دو سیر گندم یا اس کی قیمت مرقوم ہے ۔ ملاحظہ ہو :
اگر گیہوں دیوے تو نصف صاع واجب ہے جو انگریزی تول سے پونے دو سیر ہوتا ہے ۔ (خطبات الاحکام لجمعات العام: ۱۵۸، احکامِ صدقۂ فطر) ۔
فتاوی دار العلوم میں مفتی عزیز الرحمٰن صاحب تحریر فرماتے ہیں:
صدقۂ فطر موافق وزنِ سبعہ کے مثقال کہ ماشہ کا قرار دے کر جیسا کہ معروف ہے انگریزی وزن سے تقریباً پونے دو سیر گندم ہوتا ہے اور حساب اس کا کر لیا گیا ہے یہی احوط بھی ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند مدلل و مکمل: ٦/۳۰٤، مسائل صدقۃ الفطر، دار الاشاعت) ۔
فتاوی مفتی محمود میں حضرت مفتی محمود صاحب پاکستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
احتیاط اس میں ہے کہ اسی تولہ کے سیر سے پونے دو سیر گندم ایک صدقۃ الفطر میں نکالے جائیں ۔ (فتاوی مفتی محمود وغیرہ من المفتین: ۳/۳۱۵) ۔
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ تعالی کفایت المفتی میں تحریر فرماتے ہیں:
غرضیکہ درہم کی مقدار دہلی کے تولے سے ۳ ماشہ کی صحیح ہے اور اسی حساب سے نصف صاع کا وزن احوط اسی روپے کے سیر سے تقریباً پونے دو سیر ہوتا ہے پس صدقۂ فطر میں گیہوں اسی روپے بھر کے سیر سے پونے دو سیر دینے چاہئیں ۔ (کفایت المفتی: ٤/۳۱۱، دار الاشاعت) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
صدقۃ الفطر میں اسی تولہ کے سیر سے پونے دو سیر گیہوں دینے چاہئیں، نصف صاع کے ایک کلو پانچ سو پچھتر گرام ہوتے ہیں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۱۷۲، صاع کا وزن اور صدقۂ فطر کی صحیح مقدار) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
خالص گیہوں ہو تو پونے دو کلو دیا جائے تو صدقۂ فطر ادا ہو جائے گا ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۱۷۷) ۔
ایضاح المسائل میں ہے:
نصف صاع کا وزن ۱۳۵ تولہ ہوتا ہے ۔ (فتاوی دار العلوم: ٦/۳۰۵، ۳۲۷ ۔ و جواہر الفقہ: ۱/٤۲٤ ۔ و فتاوی رحیمیہ: ۵/۱۷٤) ۔
اور ایک تولہ: گیا رہ گرام ٦٦٤ ملی گرام کا ہوتا ہے ۔
مکمل نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
٭ایک رتی =۲/۱، ۱۲۱ ملی گرام،
٭دس رتی=۱۲۱۵ ملی گرام،
٭۹٦، رتی=۱۱٦٦۴ ملی گرام = ۱۱، گرام ٦٦۴ ملی گرام قدیم تولہ ۔ ۹٦، رتی کا ایک تولہ: موجود ہ زمانہ کے دس گرام کے تولہ سے ایک تولہ ایک گرام ٦٦۴ ملی گرام ہوگا ۔
٭ایک ماشہ =۹۷۲ ملی گرام،
٭۱۲، ماشہ=۱۱٦٦۴ ملی گرام = گیا رہ گرام ٦٦۴ ملی گرام =ایک تولہ ۔
٭۱۳۵، تولہ=۱٦۲۰، ماشہ =۱۵۷۴ گرام ٦۴۰ ملی گرام ۔
٭ڈیڑھ کلو ۷۴ گرام ٦۴۰ ملی گرام=نصف صاع مقدار صدقۂ فطر ۔
(ایضاح المسائل: ۱۰۱، صدقۂ فطر اور نصف صاع کے حساب کے لیے بہترین نقشہ، کتب خانہ نعیمیہ) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اکابر رحمه الله کی تحقیق کے موافق صدقۃ الفطر کی مقدار تقریباً پونے دو سیر بنتی ہے یعنی اسی تولہ کے سیر سے ۱٤۰ تولہ، اور جدید حساب کے مطابق ۹٦، ٦۳۲، ۱ کلوگرام ہوتا ہے، اور آخر الذکر کتاب ایضاح المسائل میں مفتی شبیر احمد صاحب نے ۱۳۵ تولہ والی تحقیق جواہر الفقہ سے نقل فرمائی ہے، اس کے حساب سے تقریباً ڈیڑھ کلو ۷۴ گرام ٦۴۰ ملی گرام بنتا ہے ۔
الغرض ازراہِ احتیاط پونے دو کیلو یعنی ۷۵۰، ۱ کلوگرام صدقۃ الفطر میں نکالا جائے اس میں اکثر اکابر رحمه الله کی تحقیق شامل ہو جائے گی ۔
اور پونے دو سیر کی جگہ پونے دو کلو یاد رکھنا بھی آسان ہے اور آج کل اکثر ممالک میں سیر نہ ہونے کی وجہ سے پونے دو سیر کی مقدار لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی اس لیے لوگوں کو پونے دو کلو بتلانا چاہیے، بعض اکابر رحمه الله جیسے مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمه الله کی تحقیق مذکورہ بالا تحقیق کے خلاف ہے لیکن ہم نے اکثر اکابر رحمه الله اور مفتیانِ کرام رحمه الله کے قول اور تحقیق کو ترجیح دی، اور اکثریت کے راستہ پر چلنا زیادہ موزون اور بہتر ہے ۔
شیخ اسعد محمد سعید الصاغرجی
"الفقه الحنفي وأدلته" (۱/۳۷۸، مقدار الواجب)
میں فرماتے ہیں:
وزنه نصف الصاع كيلوغرام ونصف، وثمان أجزاء من الألف من الغرام. والله أعلم.
یعنی صدقہ فطر جدید پیمانہ میں: ا/کیلو ٦۲۵ گرام ہوتا ہے، تقریباً پونے دو کیلو، جو اکابر رحمه الله کی متعین کردہ مقدار کے موافق ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.