روزہ میں ویکس (vicks) کے استعمال کا حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #182Urdu
Vol. 3كتاب الصومباب (۳): روزہ کے مفسدات و مکروہات کا بیان

Question

اگر کسی شخص نے روزہ کی حالت میں ویکس (vicks) استعمال کی تو روزہ ٹوٹا یا نہیں؟

Answer

صورت مسئولہ میں چونکہ ویکس کا اثر دماغ پر پہنچتا ہے اصل چیز نہیں پہنچتی لہذا روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ مثلاً روزہ کی حالت میں سرمہ لگانے سے حلق میں اثر ظاہر ہوتا ہے اسی طرح سر میں تیل ڈالنے سے آنکھوں میں ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے پھر بھی روزہ نہیں ٹوٹتا، فسادِ روزہ کے لیے اصل شئ کا دخول ضروری ہے، مثلاً دھواں وغیرہ زبردستی حلق میں داخل کر دے تو روزہ فاسد ہو جائے گا کیوں کہ عینِ دھواں داخل ہوا ۔
ملاحظہ فرمائیں طحطاوی میں ہے:

ومفاده أنه لو دخل حلقه الدخان أفطر أي دخان كان ولو عوداً أو عنبراً لو ذاكراً لا مكان التحرز عنه، فليتنبه له، كما بسطه الشرنبلالي، قوله إنه لو دخل حلقه الدخان، كان تبخر بخور فأشم دخانه وأدخله في حلقه ذاكراً لصومه فسد صومه، لا مكان التحرز، ولا يتوهم أنه كشم الورد ومائه والمسك، لوضوح الفرق بين هواء تطيب بريح المسك وشمه وبين جوهر دخان وصل إلى جوفه بفعله، شرنبلالية. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار ۱/٤۵۰، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، كوئٹه).

اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ جوہرِ دخان سے روزہ فاسد ہوتا ہے نہ کہ صرف خوشبو سونگھنے سے اور ویکس بھی ایک خوشبو کی طرح ہے اس میں جو ہر کا دخول نہیں پایا جاتا ۔
مراقی الفلاح میں ہے:

اكتحل ولو وجد طعمه أي طعم الكحل في حلقه أو لونه في بزاقه أو نخامته في الأصح وهو قول الأكثر وسواء كان مطيباً أو غيره وتفيد مسألة الاكتحال ودهن الشارب الآتية أنه لا يكره للصائم شم رائحة المسك والورد ونحوه، مما لا يكون جوهراً متصلاً كالدخان، فإنهم قالوا: لا يكره الاكتحال بحال، وهو شامل للمطيب وغيره، ولم يخصه بنوع منه، وكذا دهن الشارب، ولو وضع في عينيه لبناً أو دواء مع الدهن، فوجد طعمه في حلقه لا يفسد صومه إذ لا عبرة بما يكون من المسام. (مراقي الفلاح، ص: ۲۳۸، باب مالا يفسد الصوم، بيروت).

بدائع الصنائع میں ہے:

ولو اكتحل الصائم لم يفسده وإن وجد طعمه في حلقه

لأنه لا منفذ من العين إلى الجوف، ولا إلى الدماغ، وما وجد من طعمه فذلك أثره لا عينه. (بدائع الصنائع: ۲/۹۳، سعيد).

کتاب الفتاوی میں ہے:
سوال: روزہ کی حالت میں زنڈو بام یا اس طرح کی دوسری دوائیں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ ایسی دواؤں کا اثر بظاہر دماغ تک پہنچتا ہے؟
جواب: روزہ اسی وقت ٹوٹتا ہے، جب کوئی چیز بعینہٖ فطری منفذ کے ذریعہ پیٹ یا دماغ تک پہنچے، اگر کوئی چیز مساماتِ بدن کے ذریعہ جسم میں داخل ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا:
وما يدخل في مسامات البدن من الدهن لا يفطر. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۰۳).

نیز اگر اصل شئ کے ب جائے صرف اس کا اثر جسم کے اندر پہنچے تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا، بام وغیرہ لگانے سے جسم کے اندر صرف اس کا اثر پہنچتا ہے، نہ کہ اصلی شئ، نیز وہ بھی جسم کے مسامات کے ذریعہ اندر جاتا ہے، اس لیے اس کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ (کتاب الفتاوی: ۳/۳۹٤، زمزم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.