دمہ کے مریض کے لیے انہیلر استعمال کرنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 3 #188Urdu
Vol. 3كتاب الصومباب (۳): روزہ کے مفسدات و مکروہات کا بیان

Question

ایک شخص دمہ کا مریض ہے، انہیلر کے بغیر گزارہ مشکل ہوتا ہے، نہ لینے سے مرض کافی شدید ہو جاتا ہے، لہذا روزہ کی حالت اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اگر دمہ کا دائمی مریض ہے اور اس کے بغیر چارہ نہیں ہے تو انہیلر استعمال کر لیا کرے اور ساتھ میں فدیہ بھی دے دیا کرے، کہ اپنی طاقت و صلاحیت کے مطابق حکم خداوندی کی اطاعت ہو جائے ۔ اور اگر دائمی مریض نہ ہو تو بعد میں قضا کر لے اور کفارہ لازم نہیں ہے، دائمی مریض گویا شیخ فانی کے حکم میں ہے، البتہ وسعت کے مطابق روزہ رکھے اور انہیلر بھی استعمال کر لے اور فدیہ بھی دے دے ۔
الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

والشيخ الفاني الذي لا يقدر على الصوم يفطر ويطعم لكل يوم مسكيناً نصف صاع من بر أو صاعاً من تمر أو صاعاً من شعير كما يطعم في الكفارات، الفاني الذي قرب إلى الفناء أو فنيت قوته، كذا العجوز مثله. (الجوهرة النيرة: ۱/۱۷٦، كتاب الصوم، إمدادية، ملتان).

نور الایضاح میں ہے:

ويجوز الفطر لشيخ فانٍ وعجوز فانية

وتلزمها الفدية

وفي حاشية الطحطاوي: وإنما لزمته باعتبار شهودية الشهر، وأبيح له للحرج، وأفاد القهستاني عن الكرماني: أن المريض إذا تحقق اليأس من الصحة أي صحة يقدر معها على الصوم فعليه الفدية لكل يوم. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ٦۸۸، كتاب الصوم، قديمي).

اور دمہ کے مریض کا روزہ انہیلر کے استعمال کے ساتھ امساک کی طرح ہوگا اور اس پر ثواب بھی ملے گا ۔
ملاحظہ ہو الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

وإذا قدم المسافر أو طهرت الحائض في بعض النهار أمسكا بقية يومهما

قوله أمسكا أي على الإيجاب هو الصحيح قضاء لحق الوقت لأنه وقت معظم. (الجوهرة النيرة: ۱/۱۷۷، كتاب الصوم، إمدادية، ملتان).

کتاب الفتاوی میں ہے:
انہیلر کے ذریعہ دوا کے اجزاء حلق کے نیچے پہنچتے ہیں یا یہ گیس میں تبدیل ہو کر حلق سے نیچے جاتی ہے اس لیے راقم الحروف یہ رائے دیا کرتا ہے کہ انہیلر لیتے ہوے روزہ رکھ لیا جائے، کہ اپنی طاقت و صلاحیت کے مطابق حکم خداوندی کی اطاعت ہو جائے اور جو لوگ صاحبِ استطاعت ہوں وہ فدیہ بھی ادا کر دیں، کہ اگر روزہ کافی نہ ہو تو فدیہ سے اس کمی کی تلافی ہو جائے، منہ کے راستہ سے کسی چیز کا حلق سے نیچے پہنچانا روزہ کو توڑ دیتا ہے ۔ اسی طرح ناک کے ذریعہ بھی کسی چیز کا پہنچانا روزہ کے لیے مفسد ہے، اس لیے انہیلر کی دونوں صورتوں کا حکم ایک ہی ہے ۔ (کتاب الفتاوی: تیسرا حصہ، ۳۹٤، نعیمیہ) ۔
نوٹ: انہیلر ایک قسم کا پمپ ہوتا ہے جس میں دوا ہوتی ہے منہ میں رکھ کر دبانے سے دوا گیس کے طور پر براہِ راست پھیپھڑوں میں چلی جاتی ہے اور چند لمحوں میں آرام اور سکون ہو جاتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
شیخ فانی کی تعریف:
امداد الفتاوی میں ہے:
سوال: شیخِ فانی کی جس کو روزہ معاف ہے کیا تعریف ہے یعنی کس عمر اور حالت میں شیخ فانی سمجھا جاوے گا؟
الجواب:
في الدر المختار: وللشيخ الفاني العاجز من الصوم الفطر ويفدي الخ، وفي رد المحتار: أي الذي فنيت قوته أو أشرف علي الفناء ولذا عرفوه بأنه الذي كل يوم نقص إلى أن يموت نهر ومثله ما في قهستاني عن الكرماني: المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض، وكذا ما في البحر: لو نذر صوم الأبد فضعف عن الصوم لاشتغاله بالمعيشة له أن يطعم ويفطر لأنه استيقن أنه لا يقدر علي القضاء. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۱۹۱)،
ان روایات سے ملخص شیخ فانی کا مفہوم یہ نکلا کہ اس کی موجود ہ حالت سے یہ معلوم ہو کہ اس کو نہ فی الحال روزہ پر قدرت ہے نہ آئندہ امید ہے اور اس عدم قدرت کی وجہ خواہ پیرانی سالی ہو خواہ مرض ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۱۵۱، کراچی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.