نماز کے فدیہ کا ثبوت:
Question
فقہائے کرام نے تحریر فرمایا ہے کہ جب کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور اس کی نمازیں چھوٹ گئی ہوں تو ہر نماز کے لیے نصف صاع گیہوں صدقہ کیا جائے، یہ فدیہ کہاں سے ثابت ہے؟ ہمارے علاقہ میں بعض حضرات کا کہنا ہے کہ حدیث شریف سے نماز کا فدیہ ثابت نہیں، فقہاء نے اپنی طرف سے بیان کیا ہے، اس قول کی کیا حیثیت ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
فقہاء نے شیخ فانی کے بارے میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ جو شخص روزے کی بالکل طاقت نہیں رکھتا وہ ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دے، اور یہ مسئلہ ایک حدیث شریف سے اخذ کیا ہے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن عطا سمع ابن عباس رضي الله عنه يقرأ: وعلى الذين يطوقونه فدية طعام مسكين. قال ابن عباس رضي الله عنه: ليست بمنسوخة، هو للشيخ الكبير والمرأة لا يستطيعون أن يصوما، فيطعمان مكان كل يوم مسكيناً. (رواه البخاري: ۲/٦٤۷).
نیز جس شخص کا انتقال ہو جائے اور اس کے ذمہ رمضان مبارک کے روزوں کی قضا ہو تو ہر روزے کے عوض نصف صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور وغیرہ دیا جائے یہ فدیہ بھی حدیث شریف سے ثابت ہے ۔
ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:
عن ابن عمر رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: من مات و عليه صيام شهر فليطعم عنه مكان كل يوم مسكيناً. (رواه الترمذي: ۱/۱٥۲).
مذکورہ بالا دونوں احادیث کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فقہاء نے یہ مسئلہ بیان فرمایا کہ "جب کسی کا انتقال ہو جائے اور اس کے ذمہ نمازیں باقی ہوں تو ہر نماز کے عوض ایک صدقۃ الفطر کی مقدار فدیہ دیا جائے" کیوں کہ نماز اور روزہ دونوں بدنی عبادات ہیں، اور روزے کے بارے میں نص موجود ہے اور دونوں کی علت مشترک ہے کہ نماز اور روزے کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں ہے، اس وجہ سے فدیہ واجب کیا گیا ۔ ملاحظہ ہو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
والصلاة كالصوم باستحسان المشايخ. وفي البناية: أي إلا أن المشايخ استحسنوا في التجويز لأنها تشبه الصوم من حيث كونها عبادة مالية. (البناية مع الهداية: ۲/۱۳٥۳، فيصل آباد).
نور الانوار میں ہے:
ووجوب الفدية في الصلاة للاحتياط جواب سؤال مقدر تقريره: أن الفدية في الصوم للشيخ الفاني لما كانت ثابتة بنص غير معقول ينبغي أن تقتصروا عليه ولم تقيسوا عليه من مات و عليه صلاة مع أنكم قلتم إنه إذا مات و عليه صلاة وأوصي بالفدية يجب على الوارث أن يفدي بعوض كل صلاة ما يفدي لكل صوم على الأصح فأجاب بأن وجوب الفدية في قضاء الصلاة للاحتياط لا للقياس وذلك لأن نص الصوم يحتمل أن يكون مخصوصاً بالصوم ويحتمل أن يكون معلولاً لعلة عامة توجد في الصلاة أعني العجز والصلاة نظير الصوم بل أهم منه في الشان والرفعة فأمرنا بالفدية عن جانب الصلاة فإن كفت عنها عند الله تعالى فبها وإلا فله ثواب الصدقة، ولذا قال محمد في الزيادات: تجزئه إن شاء الله تعالى، والمسائل القياسية لا تعلق بالمشية قط. (نور الانوار، مبحث الامر، ص ۳۹).
وللمزيد انظر: (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۳٥۹، ۳٦۰، دار الفكر، والعناية في شرح الهداية: ۲/۳٦۰، دار الفكر، وإمداد الفتاح، ص: ٤۸٤، بيروت، وشرح تحفة الملوك مع التعليقات: ۲/۱۳۳٤).
نیز یہ بات بھی جان لینا چاہیے کہ ہر مسئلہ کے لیے صریح صحیح حدیث موجود نہیں ہوتی بلکہ بہت سارے مسائل قرآن و احادیث کی روشنی میں مستنبط ہوتے ہیں ۔
اور یہ کہنا کہ فقہاء کرام نے یہ مسئلہ اپنی طرف سے بیان کیا ہے یہ بات سراسر جہالت پر مبنی ہے، شریعتِ مطہرہ میں کسی شخص کو اپنی طرف سے احکامات بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ ہاں فقہاء نے مزاجِ شریعت و مرادِ شریعت کو واضح کرنے کا عظیم کارنامہ انجام دیا ہے، خود علامہ ابن تیمیہ رحمہ الله نے بڑے عجیب انداز میں فقہاء کی تعریف فرمائی ہے ۔ فرماتے ہیں:
ويفهمونهم مراده بحسب اجتهادهم واستطاعتهم. (فتاوى ابن تيمية: ۲۰/۲۲٤).
عوام الناس کے لیے سلامتی کا راستہ یہ ہے کہ علماء فقہاء کی باتوں کو مانیں اور ان پر عمل پیرا ہوں دین اور شریعت میں دخل اندازی کرنا ان کے لیے کسی طرح جائز اور درست نہیں، بصورتِ دیگر ان کے دین واسلام کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ۔ چنانچہ امام غزالی رحمه الله فرماتے ہیں:
وإنما حق العوام أن يومنوا ويسلموا ويشتغلوا بعبادتهم ومعاشيهم، ويتركوا العلم للعلماء فإن العامي لو يزني ويسرق كان خيراً له من أن يتكلم في العلم، فإنه من تكلم في الله وفي دينه من غير إتقان العلم وقع في الكفر من حيث لا يدري كمن يركب لجة البحر وهو لا يعرف السباحة. (إحياء علوم الدين: ۳/۳٤).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.