فدیہ دینے کے بعد صحت یاب ہونے پر قضا کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #484Urdu
Vol. 3ابواب الصوم سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

میری بہن جو امریکہ میں رہتی ہے پچھلے رمضان میں بیمار تھی اور ایسی بیماری میں مبتلا تھی کہ ہر چھ گھنٹے کے درمیان دوائی لینی پڑتی تھی، اس وجہ سے وہ ہر روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو فدیہ دیتی تھی، اب وہ تندرست ہو گئی، کیا اس پر ان روزوں کی قضا لازم ہے یا نہیں؟ جب کہ فدیہ ادا کر چکی ہے ۔ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ آپ کی بہن صحت یاب ہو گئی اور روزہ رکھنے پر قادر ہو چکی ہے لہذا اس پر روزوں کی قضا لازم ہے، روزے پر قادر ہونے کے بعد فدیہ کافی نہیں ہے، ہاں جو پہلے دیا جا چکا اس کا ثواب مل جائے گا لیکن روزوں کی قضا کر لے ۔ ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:

ولو قدر على الصوم يبطل حكم الفداء لأن شرط الخلفية استمرار العجز. (فتح القدير: ۲/۲۷۷، دار الفكر).

فتاوی الشامی میں ہے:
ومتي قدر أي الفاني الذي أفطر وفدي قضي لأن استمرار العجز شرط الخلفية. (فتاوى الشامي: ۲/٤۲۷، سعيد). وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۲۰۸).
قال في تحفة الملوك: فإن قدر على الصوم بعد الفدية قضي. (تحفة الملوك، ص ۱٤۷، رقم المسألة: ۲۵۲).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.