شوال کے شش روزوں کا حکم:
Question
آنحضرت ﷺ سے شوال کے چھ روزے رکھنے کا ثبوت ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہے تو جس کام کو آنحضرت ﷺ نے نہیں فرمایا، وہ ہمارے لیے کیسے مستحب ہوگا؟
Answer
شوال کے شش روزے مذہبِ احناف میں مستحب ہیں، اور استحباب کے ثبوت کے لیے فعلی روایات ضروری نہیں ہے، قولی روایت بھی کافی ہے، اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں ۔ مثلاً: اذان سنت مؤکدہ ہے، لیکن فعلاً ثابت نہیں ہے صرف قولاً ثابت ہے، صومِ داودی کی فضیلت بھی صرف قولاً ثابت ہے، رمضان المبارک میں عمرہ کی فضیلت قولاً ثابت ہے، لیکن آپ ﷺ نے کبھی رمضان المبارک میں عمرہ نہیں فرمایا، بلکہ بعض مرتبہ فعلی امور آنحضرت ﷺ کی خصوصیات میں سے ہوتے ہیں، جیسے بغیر مہر کے نکاح، چار سے زائد نکاح وغیرہ، یہ صرف آپ ﷺ کی خصوصیت ہے، امت کے دیگر افراد کے لیے روا نہیں ہے، اس کے برخلاف قولی امور امت کے لیے ہوتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں:
فاعلم أن الفضائل والرغائب لا تنحصر فيما ثبت فيه فعله ﷺ فقط، فإن النبي ﷺ كان يخص لنفسه أموراً تكون أليق بشأنه وأحرى لمنصبه وإذ لم يستوعب الفضائل كلها عملاً وجب أن يرغب فيها قولاً لتعجل بها الأمة فمنها: صلاة الضحى فإنه إذا لم يعمل بها بمعنى أنه لم يجعلها وظيفة له دل علي فضلها قولاً لتعمل بها أمته وتحرز الأجر، ألا ترى أنهم تكلموا في ثبوت الأذان من النبي ﷺ فعلاً مع كونه من أفضل الأعمال فالفضل لا ينحصر فيما ثبت فعله منه فإن كلاً يختار لنفسه ما ناسب شأنه ومن هذا الباب رفع اليدين بعد الصلوات للدعاء قل ثبوته فعلاً وكثر فضله قولاً فلا يكون بدعة أصلاً، فمن ظن أن الفضل فيما ثبت عمله ﷺ به فقط فقد حاد عن طريق الصواب وبنى أصلاً فاسداً. (فيض الباري: ۲/٤۳۱، باب صلاة الضحى في السفر، مطبعه حجازي بالقاهرة).
شیخ عبد الفتاح ابو غدہ صاحب رحمه الله نے بھی حضرت شاہ صاحب کی اس عبارت سے استدلال فرمایا ہے، چنانچہ عبارت ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
قال: في حديث المطلب بن أبي وداعة المذكور برقم ۱۵ص۳۲، وإن لم يثبت بعد المكتوبة، من فعله، نظراً إلى عامة الأحاديث الواردة بعد الصلوات المكتوبة، فقد سكتت عن ذكر الرفع، ولكن حديث عبد الله بن الزبير رضي الله عنه الآتي في ص۱۳۸، يكفي لإثبات أن الرفع في الدعاء بعد الصلوات المكتوبة كان من هدي النبي ﷺ أيضاً فإذا ثبت جنسه لم يكن بدعة أصلاً، مع ورود القولية في فضله عامة. (حاشية الشيخ عبد الفتاح على رسالة "سنية رفع اليدين في الدعاء بعد الصلوات المكتوبة" ص۱۳۰، حلب).
اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر چہ فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا خصوصی طور پر آنحضرت ﷺ سے عملاً ثابت نہیں ہے، لیکن عمومی قولی روایات سے دعا میں ہاتھ اٹھانے کا ثبوت ملتا ہے، لہذا قولی روایات کافی ہیں ۔ ( لیکن عبد اللہ بن زبیر
رضي الله عنه
کی روایت سے عملاً بھی دعا بعد الصلاۃ میں رفع الیدین ثابت ہے) ۔
رمضان میں عمرہ کی فضیلت قولاً ثابت ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں حدیث میں ہے:
عن أم معقل عن النبي ﷺ أنه قال: عمرة في رمضان تعدل حجة. (رواه الترمذي: ۱/۱۸٦).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.