صرف دس محرم کے روزے کا حکم:
Question
اگر کسی نے صرف عاشوراء کا روزہ رکھا تو اس کا کیا حکم ہے؟
Answer
صرف عاشورہ یعنی دس محرم کا روزہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے، لیکن اس کے باوجود ثواب مل جائے گا، ہاں علامہ ابو بکر کاسانی رحمه الله نے فرمایا کہ عام حضرات نے بلا کراہت جائز قرار دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:
وكره بعضهم صوم يوم عاشوراء وحده، لمكان التشبه باليهود، ولم يكرهه عامتهم، لأنه من الأيام الفاضلة فيستحب استدراك فضيلتها بالصوم. (بدائع الصنائع: ۲/۷۹، سعيد).
فتح القدیر میں ہے:
والمكروه تنزيهاً عاشوراء مفرداً عن التاسع. (فتح القدير: ۲/۳۰۳، دار الفكر. وكذا في إمداد الفتاح: ص ٦۵٦، بيروت. والدر المختار مع الشامي: ۲/۳۷۵، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
عاشورہ کے فقط ایک روزہ پر کفایت کرنا مکروہ ہے، لیکن ثواب اس کا بھی مل جائے گا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/۱۹۳، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.