پندرہویں شعبان کے روزے کو بدعت کہنے کا حکم:

27 min readFatwa Vol 9 #280Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

نمبر ۳: ہر مہینہ میں تین دن کے روزے کے بارے میں تو علمائے کرام سے سنا ہے کہ متعدد احادیث میں اس کا ذکر ہے لیکن اگر کوئی صرف ۱۵ شعبان کا روزہ رکھ لے تو یہ مستحب میں شمار ہوگا یا بدعت میں ؟
بينوا بالتفصيل توجروا بالأجر الجزيل.

Answer

اکثر اکابر علمائے کرام نے ابن ماجہ شریف کی روایت کی بنا پر ۱۵ شعبان کے روزے کو مستحب قرار دیا ہے، اگر چہ محدثین کے ہاں یہ روایت انتہائی ضعیف ہے، لیکن موضوع نہیں ہے، البتہ اس کو سنت کا درجہ دینا درست نہیں اور بدعت کہنا بھی صحیح نہیں ۔
پندرہ شعبان کے روزے کے استحباب پر اکابر علما کی تصریحات:
ہمارے اکابر علماء نے بھی پندرہ شعبان کے روزے کو مستحبات میں شمار فرمایا ہے ۔ چنانچہ چند حضرات کی عبارات ملاحظہ کیجیے:
(۱) حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب رحمه الله مفتی اعظم ہند نے بھی اس روزہ کو مستحبات میں شمار کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو تعلیم الاسلام میں فرماتے ہیں:
سوال: مستحب کون سے روزے ہیں؟
جواب: فرض اور واجب اور سنت روزوں کے بعد تمام روزے مستحب ہیں ۔ لیکن بعض روزے ایسے ہیں کہ اُن میں ثواب زیادہ ہے جیسے شوال میں چھ روزے، ماہِ شعبان کی پندرہویں تاریخ کا روزہ الخ ۔ (تعلیم الاسلام، چوتھا حصہ، ص ۱۸۷، ط: مکتبۃ البشری) ۔
(۲) حضرت مفتی عزیز الرحمن سابق صدر مفتی دار العلوم دیوبند نے بھی فتاوی دار العلوم دیوبند میں مستحب فرمایا ہے:
الجواب: البتہ یہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ شعبان کی پندرہویں شب کو بیدار رہ کر عبادت میں مشغول رہو اور پندرہویں تاریخ کا روزہ رکھو، پس پندرہویں تاریخ شعبان کا روزہ مستحب ہے، اگر کوئی رکھے تو ثواب ہے اور نہ رکھے تو کچھ حرج نہیں فقط ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۵۰۰، مدلل مکمل) ۔
(۳) بہشتی زیور میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
شبِ برات کی اتنی اصل ہے کہ پندرہویں رات اور پندرہواں دن اس مہینے کا بہت بزرگی اور برکت کا ہے، ہمارے پیغمبر ﷺ نے اس رات کو جاگنے کی اور اس دن کو روزہ رکھنے کی رغبت دلائی ہے اور اس رات میں ہمارے حضرت ﷺ نے مدینہ کے قبرستان میں تشریف لے جا کر مردوں کے لیے بخشش کی دعا مانگی ہے ۔ (بہشتی زیور، چھٹا حصہ، ص ٦۰، ط: دار الاشاعت) ۔
دوسری جگہ" دین کی باتیں" میں مرقوم ہے:
شبِ برات کی پندرہویں اور عید کے مہینہ میں چھ دن نفل روزے رکھنے کا بھی بہت زیادہ ثواب ملتا ہے ۔ (خلاصہ بہشتی زیور، ص ۲۱۲) ۔
(٤) حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب رحمه الله نے عمدۃ الفقہ میں مستحب روزے کے تحت حدیث نقل فرمائی ہے ۔ ملاحظہ ہو :
(مستحب روزے) نمبر (۸) ماہِ شعبان کے روزے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب ماہِ شعبان کا نصف ہو تو اس کی رات کو قیام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو، الحدیث، اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/۱۸۷) ۔
(۵) فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن صاحب رحمه الله صدر مفتی دار العلوم دیوبند و سہارنپور کا فتوی:
سوال: ہمارے یہاں گزشتہ سال پندرہویں شعبان کا روزہ نہیں رکھا گیا اور کہا گیا کہ یہ روزہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔ کیا یہ صحیح ہے ۔ علاوہ ازیں اس روزہ کو بدعت قرار دیتے ہیں، کیا فضائل میں ضعیف حدیثوں کا اعتبار ہے یا نہیں؟
الجواب حامداً و مصلیاً:
عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها، فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا، فيقول: ألا من مستغفر لي فأغفر له، ألا مسترزق فأرزقه، ألا مبتلى فأعافيه ألا كذا، ألا كذا حتى يطلع الفجر. رواه ابن ماجه. مشكاة شريف: ص
۱۱۵
.
ابن ماجہ میں یہ روایت صفحہ ۱۰۰ پر ہے ۔
سند کے اعتبار سے یہ روایت ضعیف ہے، فضائل اعمال میں ضعیف حدیث سے استدلال درست ہے:

ويجوز عند أهل الحديث وغيرهم التساهل في الأسانيد ورواية ما سوى من الضعيف والعمل به من غير بيان ضعفه في غير صفات الله تعالى والأحكام كالحلال والحرام وغيرهما، ذلك كالقصص وفضائل الأعمال والمواعظ وغيرهما مما لا تعلق له بالعقائد والأحكام. (تدريب الراوي، ص ۹۲).

پس اس روزہ کو بدعت کہنا درست نہیں جب کہ اس کے متعلق حدیث شریف موجود ہے ۔ فقط واللہ سبحانہ و تعالی اعلم ۔ (فتاوی محمودیہ: ۲۰۳ ۔ ۲۰٤) ۔
(٦) شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی رحمه الله نے بھی اس روزہ کو ثابت مانا ہے اور ابن ماجہ کی روایت سے استدلال فرمایا ہے ۔ چنانچہ ما ثبت بالسنہ میں فرماتے ہیں:
المقالة الثالثة في قيام ليلة النصف من شعبان وصيام يومها أو ما ثبت فيها الأدعية والأذكار: عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إذا كان ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا يومها. الحديث

(ما ثبت بالسنة، ص ۳۵۸ ــ۳٦۳).

(۷) اسلامی فقہ میں ہے:
شعبان کی ۱۵/تاریخ کو اور شوال کے مہینہ میں چھ روزے رکھنا بھی سنت ہے، شعبان کی پندرہویں تاریخ کو روزہ رکھنے اور پندرہویں رات کو عبادت کرنے اور قبرستان جا کر مردوں کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا بھی ذکر حدیث میں ہے ۔ (اسلامی فقہ: ۱/٤۱۷) ۔
(۸) مفتی تقی صاحب تحریر فرماتے ہیں: پندرہویں شعبان کے روزے کے استحباب پر علمائے کرام کی تصریحات ۔ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ فرماتے ہیں: پندرہویں تاریخ شعبان کو روزہ رکھنا مستحب ہے ۔ (زوال السنۃ: ص ۱۰) ۔
(۹) حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ نے بھی اس کو پندرہویں شعبان کے مسنون اعمال میں شمار فرمایا، یعنی اس کی صبح کو روزہ رکھنا مستحب ہے ۔
(۱۰) علامہ قطب الدین محدث دہلوی رحمہ اللہ نے مشکوٰۃ شریف کی شرح مظاہر حق: ۲/۳٦٤، پر باب صیام التطوع میں پندرہویں شعبان کا روزہ بھی شمار فرمایا ہے ۔ (ملخص از رسالہ: شبِ برا ء ت کی حقیقت: ص ۷٤ ۔ ۷۷، از مفتی تقی عثمانی صاحب مد ظلہ) ۔
فقہائے مالکیہ کے نزدیک پندرہ شعبان کے روزے کا حکم:

وفي شرح الصغير على أقرب المسالك للشيخ الدردير المالكي مع حاشية الصاوي: وندب صوم يوم النصف من شعبان. (شرح الصغير: ۱/٦۹۲، باب الصوم).

یعنی شیخ دردیر مالکی رحمه الله نے پندرہویں شعبان کا روزہ مستحب قرار دیا ہے ۔

وفي حاشية البناني: وزاد ابن يونس يوم النصف من شعبان فتصير الأيام المرغب فيها ثمانية. (حاشية البناني على هامش شرح الزرقاني: ۲/۳۵۰).
وفي الخلاصة الفقهية: كم هي مندوبات الصوم وما هي

۲۲
وصوم يوم النصف من شعبان لمن أراد الاقتصار على هذا اليوم

(الخلاصة الفقهية على مذهب السادة المالكية: ۱۹۱).
وفي فقه العبادات: (من المندوبات) صوم يوم النصف من شهر شعبان. (فقه العبادات على المذهب المالكي، ۳۲۳).

فقہائے شافعیہ کے نزدیک پندرہ شعبان کے روزے کا حکم:
فتاوی رملی میں اس دن کے روزے کو سنت کہا ہے اور حدیث کو قابل حجت بتایا ہے:

(سئل) عن صوم منتصف شعبان كما رواه ابن ماجه عن النبي ﷺ أنه قال: إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها، هل هو مستحب أو لا وهل الحديث صحيح أو لا وإن كان ضعيفاً فمن ضعفه؟ فأجاب: بأنه يسن صوم نصف شعبان بل يسن صوم ثالث عشره، ورابع عشره وخامس عشره، والحديث المذكور يحتج به. (فتاوى الرملي: ۲/۷۹).

شیخ ابن حجر الہیتمی الفتاوی الفقہیۃ الکبری میں سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

فأجاب: وأما صوم يومها فهو سنة من حيث كونه من جملة الأيام البيض لا من حيث خصوصه والحديث المذكور ضعيف. (الفتاوى الفقهية الكبرى: ۲/۸۰).

تحفت المحتاج کے حاشیہ میں شیخ احمد بن قاسم العبادی لکھتے ہیں:

وما ذكروه معها ما إذا طلب صومه في نفسه كيوم النصف من شعبان. (حاشية تحفة المحتاج: ۳/۵۰٤).

فقہائے حنابلہ کے نزدیک پندرہ شعبان کے روزے کا حکم:

قال في "الإنصاف "قال في الفروع: لم يذكر أكثر الأصحاب استحباب صوم رجب وشعبان، واستحسنه ابن أبي موسى في الإرشاد، قال ابن الجوزي في كتاب أسباب الهداية: يستحب صوم الأشهر الحرم

وجزم به في المستوعب، وقال: آكد شعبان يوم النصف،

(الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف: ۳/۳٤۷. وكذا في الفروع: ۵/۹۸).

شیخ مرداوی حنبلی نے اپنی کتاب
"الإنصاف "
میں تحریر فرمایا ہے کہ شیخ ابن جوزی نے"
المستوعب "
میں لکھا ہے کہ شعبان کے روزوں میں پندرہویں شعبان کا روزہ زیادہ مؤکد ہے ۔

وقال ابن رجب الحنبلي في لطائف المعارف: وأما صيام يوم النصف منه فغير منهي عنه فإنه من جملة أيام البيض الغر المندوب إلى صيامها من كل شهر وقد ورد الأمر بصيامه من شعبان بخصوصه ففي سنن ابن ماجه بإسناد ضعيف عن علي

(لطائف المعارف، ص ۱۳٦).

حافظ ابن رجب حنبلی رحمه الله نے فرمایا کہ پندرہویں شعبان کے روزے کا حکم خصوصیت سے آیا ہے ۔ مذکورہ بالا نقولِ فقہاء سے روزِ روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے ہاں مستحب ہونے کی تصریح موجود ہے ۔
فقہ حنفی میں متقدمین کی کتب میں کسی مسئلہ کی تصریح نہ ہو اور دیگر مذاہب میں ہو تو متأخرین فقہائے احناف کا اصول:
جب کوئی مسئلہ فقہ حنفی کی کتب میں مصرح نہیں ہوتا اور دیگر مذاہب میں مصرح ہوتا ہے اور وہ فقہ حنفی کے اصول کے عین موافق ہوتا ہے تو ہمارے فقہائے احناف دیگر مذاہب سے مسئلہ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
وقواعدنا لا تأباه، كما قال ابن نجيم رحمه الله في البحر: ولم أر من صرح بهذا من أئمتنا لكني رأيته في كتب الشافعية وقواعدنا لا تأباه. (۱/۱۷٤، باب المسح على الخفين)
اسی طرح علامہ شامی رحمه الله اور علامہ طحطاوی رحمه الله وغیرہ فقہاء نے بھی کئی مقامات پر یہ جملہ فرمایا ہے ۔ راجع: (فتاوی الشامی و حاشیۃ الطحطاوی و مجمع الانہر، و اللباب وغیرہ من کتب الفقہ) ۔
سنن ابن ماجہ کی حدیث اور اس پر کلام ملاحظہ ہو :

عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها، فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا، فيقول: ألا من مستغفر لي فأغفر له، ألا مسترزق فأرزقه، ألا مبتلى فأعافيه ألا كذا، ألا كذا حتى يطلع الفجر. (رواه ابن ماجة: ص ۹۹، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان. والبيهقي في شعب الإيمان: ۳/۳۷۸/۳۸۲۲، ما جاء في ليلة النصف من شعبان).

پورے ذخیرۂ احادیث میں صرف ایک حدیث موجود ہے جس سے ۱۵ شعبان کے روزہ کا پتا چلتا ہے، لیکن اس حدیث پر محدثین نے بہت کچھ کلام فرمایا ہے، مستقل رسائل بھی تحریر فرمائے ہیں اس کے باوجود اس کو موضوع نہیں کہا جا سکتا ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابی سبرہ پر کلام ہے اس کا خلاصہ درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
ابوبکر بن ابی سبرہ ضعیف ہیں اس میں کسی کا اختلاف نہیں ۔ امام بخاری رحمه الله نے فقط ضعیف فرمایا ہے، اور امام احمد بن حنبل رحمه الله نے واضع الحدیث بتلایا لیکن امام احمد بن حنبل رحمه الله کا زمانہ بہت بعد کا ہے، اس لیے شاید ان کے بارے میں صحیح حالات کا علم نہیں ہو سکا، ورنہ اکثر ائمہ نے فرمایا کہ وہ اسلامی سلطنت کے تین بڑے عظیم الشان شہر: مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور عراق کے مفتی و قاضی تھے، بنا بریں واضع الحدیث کہنا بعید از عقل ہے کیوں کہ تین بڑے شہروں کا قاضی اور مفتی کیا فاسق و فاجر ہوگا؟
ثقہ اس کو کہتے ہیں کہ احکامِ شریعت کو اپنے اوپر نافذ کرے اور قاضی وہ ہے جو احکامِ شریعت لوگوں پر نافذ کرے اور قاضی کی شرائط و صفات میں ہے کہ گناہِ کبیرہ سے بچنے والا ہو اور صغیرہ پر مصر نہ ہو، اور جو شخص واضع الحدیث ہوگا وہ تو مرتکبِ حرام ہوگا جس کا شمار فساق کے زمرہ میں ہوگا بھلا ایسا شخص بھی عہدۂ قضا کا اہل ہو سکتا ہے؟ بلکہ قاضی اور مفتی کے الفاظ خود توثیق پر دلالت کرتے ہیں ۔
ہاں ضعف کی وجہ یہ ہے کہ حدیث بیان کرنا ان کا شغف نہیں تھا اکثر و بیشتر قضا و افتاء کے کاموں میں مشغول ہونے کی وجہ سے ان کو ضعیف کہا جیسا کہ امام حفص بن سلیمان کو بھی واضع الحدیث کہا گیا (دیکھیے: تہذیب الکمال: ۷/۱۵) لیکن یہ صحیح نہیں کیوں کہ ان کا شغف قراءت کے ساتھ زیادہ تھا اس وجہ سے ضعیف کہنا درست ہے ۔ بہرحال ابن ابی سبرہ کو ضعیف کہنا درست ہے واضع الحدیث کہنا بہت بعید ہے ۔
پھر بعض محدثین نے بعض راویوں کو واضع الحدیث کہا ہے لیکن دیگر بعض نے توثیق بھی کی ہے، ایسے راویوں کی روایت ہمارے اکابر رحمه الله نے قبول کی ہے، یعنی بعض حضرات کے کسی راوی کو واضع الحدیث کہنے کا اعتبار نہیں کیا جب کہ واضع الحدیث ہونے کی صحیح اور معقول وجہ بیان نہ کی گئی ہو جیسے محمد بن اسحاق کو امام مالک رحمه الله نے
دجال من الدجاجلة
کہا لیکن ان کی روایت کو قبول کیا ہے ۔ اسی طرح امام حفص بن سلیمان کی قراءت و روایت مقبول ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ ابوبکر بن ابی سبرہ کی روایت مقبول ہو گی ہاں ضعیف کہہ سکتے ہیں موضوع کہنا درست نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو شمس الدین ذہبی رحمه الله تاریخ الاسلام میں فرماتے ہیں:

أبوبكر بن عبد الله بن محمد بن أبي سبرة، القرشي، السبري المدني، الفقيه، قاضي العراق، سمع: عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، وعطاء بن أبي رباح، وزيد بن أسلم، وشريك بن أبي نمر، وطائفة، وعنه: ابن جريج مع تقدمه، وأبو عاصم، والواقدي وعبد الرزاق، وغيرهم، ضعفه البخاري وغيره

وقال أبو داود: كان مفتي أهل المدينة. وروى عباس عن ابن معين قال: ليس حديثه بشيء، قدم ههنا فاجتمع عليه الناس فقال: عندي سبعون ألف حديث، إن أخذتم عني كما أخذ ابن جريج

وروى معن، عن مالك رحمه الله قال لي أبو جعفر المنصور: يا مالك، من بقي بالمدينة من المشيخة (
مشیخہ کا مطلب مقتدی ہے تو کیا واضع الحدیث کو اہل مدینہ نے مقتدی بنا لیا تھا)
قلت: ابن أبي ذئب، وابن أبي سلمة الماجشون، وابن أبي سبرة، وقال النسائي: متروك الحديث

وقال: ابن سعد: أنا محمد بن عمر، سمعت أبا بكر بن أبي سبرة يقول: قال لي ابن جريج: اكتب لي أحاديث من أحاديث جياد، فكتبت له ألف حديث ثم دفعتها إليه، ما قرأها علي، ولا قرأتها عليه. وقال أحمد: قال لي حجاج قال لي ابن أبي سبرة: عندي سبعون ألف حديث في الحلال والحرام

قال مصعب الزبيري: كان من علماء قريش ولاه المنصور القضاء. وقال ابن سعد: مات سنة اثنتين وستين ومائة ببغداد

وولي قضاء مكة لزياد بن عبيد الله

الخ. (تاريخ الإسلام: ۱۰/۵۳۵. ۵۳۷، دار الكتاب العربي).
وينظر للاستزادة: (تاريخ بغداد: ۱٤/۳٦۷. ۳۷۱، ط: دار الكتب العلمية بيروت، ومختصر تاريخ دمشق: ۸/۲۹٤. ۲۹٦، وتاريخ الإسلام للذهبي والوافي بالوفيات، والطبقات الكبرى لابن سعد: ۱/٤۵۸، ط: مكتبة العلوم والحكم، وتهذيب الكمال للإمام المزي: ۳۳/ ۱۰۲. ۱۰۸).
وقال في تاريخ بغداد وتاريخ دمشق: وكان كثير العلم والسماع والرواية. (تاريخ دمشق: ۸/۲۹٤، وتاريخ بغداد: ۱٤/ ۳٦۹، ط: مؤسسة الرسالة).

بعض ائمہ کو امام احمد بن حنبل رحمه الله کے واضع الحدیث کہنے سے اتفاق نہیں ہے اسی وجہ سے انہوں نے اس کا تذکرہ نہیں کیا صرف توثیق کے الفاظ ذکر کیے ہیں۔ ملاحظہ ہو تکملۃ الإکمال میں ہے:

وأبو بكر عبد الله بن أبي سبرة بن أبي رهم بن عبد العزى مفتي أهل المدينة حدث عن إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة وشريك بن عبد الله بن أبي نمر ومحمد بن عبد الرحمن ابن أبي ذئب روى عنه وعبد الرزاق بن همام وقال عباس الدوري سمعت يحيى بن معين يقول: أبو بكر بن أبي سبرة الذي يقول له السبري هو مدني ليس حديثه بشيء وقال أبو عبيد محمد بن علي الآجري سألت أبا داود يعني السجستاني عن أبي السبري فقال هو أبو بكر بن أبي سبرة مفتي أهل المدينة. (تكملة الإكمال لأبي بكر محمد بن عبد الغني البغدادي: ۳/۲۸٦).

حافظ شمس الدین الذہبی رحمه الله نے سیر اعلام النبلاء میں مفصل حالات ذکر کیے ہیں۔ ابتداء میں فرماتے ہیں:

الفقيه الكبير قاضي العراق

ضعف من قبل حفظه.
یعنی حدیث کے ساتھ زیادہ شغف نہ ہونے کی وجہ سے حدیث میں کمزور تھے اور اس کی تائید امام بزار کے قول سے بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے لین الحدیث فرمایا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (
سير أعلام النبلاء: ۷/۳۳۰. ۳۳۲، ط: مؤسسة الرسالة).

دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس روایت کی تخریج فرمائی ہے اور موضوع نہیں فرمایا:
۱۔ تہذیب الکمال میں امام مزی رحمه الله نے بھی مفصل حالات تحریر کیے ہیں اور پندرہ شعبان کے روزے والی روایت بھی اپنی سند سے نقل فرمائی ہے اور کوئی کلام بھی نہیں فرمایا، معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک بھی یہ روایت موضوع نہیں ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (تہذیب الکمال: ۳۳/۱۰۲۔ ۱۰۸)۔
۲۔ نیز امام محمد بن اسحاق ابو عبد الله الفاکهی (م ۲۷۵ ھ) نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب "أخبار مکة" (رقم: ۱۸۳۷
)
میں یہ روایت اپنی سند سے نقل فرمائی ہے اور موضوع نہیں کہا۔
۳۔ نیز امام یحیی بن الحسین الشجری نے
"الأمالي الشجرية "(ص ۲۳۷) پر
یہ روایت نقل فرمائی ہے اور کوئی کلام نہیں فرمایا۔
علامہ عینی رحمه الله نے عمدۃ القاری میں فقط ضعیف کہا ہے، اسی طرح تخریج الإحیاء میں حافظ عراقی رحمه الله نے بھی ضعیف کہا ہے، امام شوکانی رحمه الله نے بھی الفوائد المجموعہ (ص ۵۱) پر ضعیف کہا ہے، شیخ محمد طاہر پٹنی نے بھی ضعیف کہا ہے، یعنی ان محدثین میں سے کسی نے اس روایت کو موضوع نہیں کہا۔ و کفی بهم قدوة۔
وكفى بهم قدوة.

ماہنامہ دار العلوم دیوبند میں اس حدیث کے موضوع نہ ہونے کی تین وجوہات بیان کی گئی ہیں:
پہلی وجہ: محض ایک راوی کے اوپر وضع کے اتہام سے حدیث کو موضوع نہیں کہا جا سکتا، اگر یہ حدیث موضوع ہوتی تو حافظ منذری رحمه الله اس کو اپنی کتاب "الترغیب و الترہیب" میں ذکر نہ کرتے، اس لیے کہ ان کے سلسلے میں علامہ سیوطی رحمه الله نے لکھا ہے کہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ کوئی حدیث منذری رحمه الله صاحب ترغیب و ترہیب کی تصانیف میں موجود ہے تو اس کو اطمینان سے بیان کر سکتے ہو (یعنی وہ موضوع نہیں ہو سکتی) (الرحمۃ المرسلة في شأن حدیث البسملة: ص ۱۵)۔
دوسری وجہ: اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ جن حضرات نے سنن ابن ماجہ کی موضوع احادیث کی نشان دہی کی ہے ان میں اس حدیث کا ذکر نہیں ملتا، "
ما تمس إليه الحاجة "
میں وہ ساری احادیث مذکور ہیں۔ (محدثِ کبیر مولانا حبیب الرحمن الأعظمی، بہ حوالہ شبِ براءت کی شرعی حیثیت، ص ٦) ۔
تیسری وجہ: ابن أبی سبرہ پر جرح شدید ہے، ان کے ضعیف ہونے میں شبہ نہیں؛ تاہم بعض اہل علم ایسے بھی ہیں، جنہوں نے ان کے بارے میں بلند کلمات کہے ہیں؛ جیسا کہ تاریخ خطیب بغدادی رحمه الله میں ان کے تفصیلی ترجمہ کے ضمن میں موجود ہیں، نیز شیخ محمد طاہر پٹنی رحمه الله نے ان کو قاضی العراق لکھا ہے، جہاں بعض محدثین نے ان کی طرف وضع کی نسبت کی ہے، وہیں بعض نے محض ضعیف کہا ہے۔
لہٰذا قطعی طور پر اس حدیث کو موضوع نہیں کہا جا سکتا، ہاں ضعیف ضرور کہا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ پندرہویں شعبان کے روزے کو نہ تو واجب و سنت کہا جا سکتا ہے، نہ ہی بدعت کہہ کر بالکل رد کیا جا سکتا ہے؛ بلکہ اس کو مستحب کہا جائے گا۔ (ماہنامہ دار العلوم دیوبند، ص ۱۲، شعبان المعظم ۱٤۳٤؁ ھ مطابق جون ۲۰۱۳؁ ء)۔
اور فضائل میں ضعیف حدیث پر عمل علماء کے یہاں مروج ہے۔
فضائل میں ضعیف حدیث سے استدلال کے متعلق محدثین کے اقوال ملاحظہ فرمائیے:

روى الخطيب البغدادي في "الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع" (رقم: ۱۲۸۰): قال: أنا محمد بن أحمد بن يعقوب أنا محمد بن نعيم، قال: سمعت يحيى بن محمد العنبري، يقول: نا محمد بن إسحاق بن راهويه، قال: كان أبي يحكي عن عبد الرحمن بن مهدي، أنه كان يقول: إذا روينا في الثواب والعقاب وفضائل الأعمال، تساهلنا في الأسانيد والرجال، وإذا روينا في الحلال والحرام والأحكام تشددنا في الرجال".
قال الشيخ تقي الدين ابن الصلاح: نقاد أهل الحديث يتسامحون في أسانيد الرغائب والفضائل. (البدر المنير لابن الملقن: ۲/۲۸۰، ط: الرياض).
وقال الخطيب في "الكفاية في علم الرواية" (ص ۱۳۳، باب التشديد في أحاديث الأحكام والتجوز في فضائل الأعمال) قد ورد عن غير واحد من السلف أنه لا يجوز حمل الأحاديث المتعلقة بالتحليل والتحريم إلا عمن كان بريئاً من التهمة بعيداً من الظنة، وأما أحاديث الترغيب والمواعظ ونحو ذلك فإنه يجوز كتبها عن سائر المشايخ ثم أسند هذه الآثار التالية:

۱
/ عن سفيان الثوري قال: لا تأخذوا هذا العلم في الحلال والحرام إلا من الرؤساء المشهورين بالعلم الذين يعرفون الزيادة والنقصان، ولا بأس بما سوى ذلك من المشايخ. رحمه الله

۲
/ عن سفيان بن عيينة قال: لا تسمعوا من بقية ما كان في سنة واسمعوا منه ما كان في ثواب وغيره.

۳
/ عن أحمد بن حنبل قال: إذا روينا عن رسول الله ﷺ في الحلال والحرام والسنن والأحكام تشددنا في الأسانيد وإذا روينا عن النبي ﷺ في فضائل الأعمال وما لا يضع حكماً ولا يرفعه تساهلنا في الأسانيد.

٤
/ عن أبي زكريا العنبري قال: الخبر إذا ورد لم يحرم حلالاً ولم يحل حراماً، ولم يوجب حكماً، وكان في ترغيب أو ترهيب أو تشديد أو ترخيص: وجب الإغماض عنه والتساهل في رواته. انتهى النقل عن الخطيب.

ابن قدامہ رحمه الله المغنی میں فرماتے ہیں:

النوافل والفضائل لا تشترط صحة الحديث فيها. (المغني: ۱/۷٦۹، فصل في صلاة التسبيح، دار الكتب العلمية).

امام نووی رحمه الله الاذکار میں فرماتے ہیں:

قال العلماء من المحدثين والفقهاء وغيرهم: يجوز ويستحب العمل في الفضائل والترغيب والترهيب بالحديث الضعيف ما لم يكن موضوعاً وأما الأحكام كالحلال والحرام والبيع والنكاح والطلاق وغير ذلك فلا يعمل فيها إلا بالحديث الصحيح أو الحسن إلا أن يكون في احتياط في شيء من ذلك، كما إذا ورد حديث ضعيف بكراهة بعض البيوع أو الأنكحة فإن المستحب أن يتنزه عنه ولكن لا يجب. (كتاب الأذكار، ص ۲۵، ط: مكتبة دار البيان).

محقق ابن ہمام رحمه الله فتح القدیر میں فرماتے ہیں:

والاستحباب يثبت بالضعيف غير الموضوع. (فتح القدير: ۲/۱۳۳، في أواخر من باب الصلاة على الميت، دار الفكر).
ابن بدران الحنبلي المدخل إلى مذهب الإمام أحمد بن حنبل
میں فرماتے ہیں:
تتمة: ذهب الإمام أحمد وتبعه موفق الدين المقدسي والأكثر إلى أنه يعمل بالحديث الضعيف في الفضائل. (المدخل إلى مذهب الإمام أحمد بن حنبل: ۱/۱۰٤، الأصل الثاني: السنة، ط: دار الكتب العلمية بيروت).
تتمة أضواء البيان
میں ہے:

ولو فرض وقدر جدلاً أن في السند مقالاً، فإن أئمة الحديث لا يمنعون إذا لم يكن في الحديث حلال أو حرام أو عقيدة، بل كان باب فضائل الأعمال لا يمنعون العمل به، لأن باب الفضائل لا يشدد فيه هذا التشدد ونقل السيوطي مثل ذلك عن أحمد وابن المبارك. (تتمة أضواء البيان للشيخ عطية سالم تلميذ الشيخ الشنقيطي: ۸/۵۷۲).

فتح المغیث میں امام سخاوی رحمه الله لکھتے ہیں

هذا مع أن مجرد تفرد الكذاب بل الوضاع ولو كان بعد الاستقصاء والتفتيش من حافظ متبحر تام الاستقراء غير مستلزم لذلك بل لا بد معه من انضمام شيء مما سيأتي. (فتح المغيث: ۱/۲۵۱).

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (الجزء اللطیف في الاستدلال بالحدیث الضعیف ط؛ زمزم)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.