پندرہویں شعبان کو شبِ براءت سے موسوم کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #287Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

نمبر ۹: کیا اس رات کا نام لیلۃ البراءت روایات سے ثابت ہے یا نہیں؟ اور لیلۃ البراءت کا کیا مطلب ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

کتبِ احادیث کی ورق گردانی سے پتا چلتا ہے کہ لیلۃ البراءت کا لفظ کسی مرفوع حدیث میں موجود نہیں ہے البتہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی طرف منسوب ایک اثر میں موجود ہے، عام طور پر احادیث میں اس شب کو لیلۃ النصف من شعبان سے موسوم کیا گیا ہے ۔
لیلۃ البراءت ؛ یہ عربی لفظ ہے جو لیلۃ اور براء ۃ سے مرکب ہے لیلۃ کے معنی ہیں رات، اور براء ۃ، چھٹکارے کو کہتے ہیں، مطلب یہ ہو گا کہ اس رات میں اللہ تعالی کی جانب سے بے شمار گنہگاروں اور مجرموں کو جہنم کی آگ سے خلاصی و چھٹکارا ملتا ہے اور ان کی بخشش کر دی جاتی ہے ۔
علماء نے اپنی تصنیفات و تالیفات میں اس رات کو مختلف اَلقاب سے یاد کیا ہیں:
۱ ۔
ليلة مباركة،
برکت والی رات ۔ (تفسیر الکشاف: ٦/۲۵٦، سورۃ الدخان) ۔
لیکن قرآنِ کریم میں لیلۃ مبارکۃ سے مراد لیلۃ القدر ہے اور جن حضرات نے سورۂ دخان میں لیلۃ مبارکۃ سے لیلۃ نصف شعبان مراد لیا، تو محققین مفسرین نے ان کی تردید فرمائی ۔ امام قرطبی رحمه الله لکھتے ہیں:
وجمهور العلماء على أنها ليلة القدر وفيهم من قال: إنها ليلة النصف من شعبان، وهو باطل، لأن الله تعالى يقول في كتابه الصادق القاطع: شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن، فنص على أن ميقات نزوله رمضان ثم عين من زمانه الليل ههنا بقوله في ليلة مباركة فمن زعم أنه في غيره فقد أعظم الفرية على الله. (تفسير القرطبي: ۱٦/۱۱۰، الدخان: ٤).

۲ ۔
ليلة الرحمة،
رحمتِ خاصہ کے نزول کی رات ۔ (
التفسير الكبير: ۲۷/٦۵۳، وفيض القدير للشيخ المناوي).

۳ ۔
ليلة الصك،
دستاویز والی رات ۔ (
التفسير الكبير: ۲۷/٦۵۳، وعمدة القاري: ۲/٤۱٦).

٤ ۔
ليلة البراءة،
چھٹکارے کی رات ۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۳/۹٦۹، و تفسیر العز بن عبد السلام: ۳/٤۷۳، و التوضیح شرح مشکاۃ المصابیح: ۱۳/۵۷۲، و عمدۃ القاری: ۲/٤۱٦) ۔
وكان ابن عباس رضي الله تعالى عنهما يسميها ليلة التعظيم وليلة النصف من شعبان ليلة البراءة وليلتي العيدين ليلة الجائزة. (تفسير العز بن عبد السلام: ۳/٤۷۳، وكذا النكت والعيون: ٦/۳۱۳).

۵ ۔
ليلة المغفرة،
بخشش والی رات ۔
إن الله تعالى يغفر لعباده فيها كما جاء في الأحاديث.

٦ ۔
ليلة العتق،
جہنم سے آزادی کی رات ۔ (
روح المعاني، سورة الدخان، والتفسير الكبير: ۲۷/٦۵۳).
القاموس الوحید میں مرقوم ہے:
البراءة:
چھٹکارا، صفائی ۔ (القاموس الوحید: ۱/۱۵۷) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.