شبِ براءت میں قبرستان جانے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #283Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

نمبر ۵: اکثر لوگ بہت اہتمام سے پندرہویں شعبان کی رات قبرستان جاتے ہیں، اور اپنے رشتہ داروں اور بزرگوں کی قبروں کی زیارت کرتے ہیں، کیا یہ احادیث و روایات سے ثابت ہے یا نہیں؟ اور فقہاء اس سلسلہ میں کیا کہتے ہیں؟

Answer

شبِ براءت یعنی پندرہویں شعبان کی رات میں قبرستان جانا اور مرحومین کی زیارت کرنا، ایصالِ ثواب کرنا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرنا مستحب ہے، نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے اگرچہ روایت ضعیف ہے، تاہم محدثین کے نزدیک بابِ فضائل میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا درست ہے، لیکن چونکہ پوری حیاتِ طیبہ میں صرف ایک مرتبہ پندرہویں شعبان میں قبرستان جانا ثابت ہے، اس لیے سنت کا درجہ نہ دیا جائے اور نہ اس کا التزام کیا جائے، نیز خرافات وغیرہ سے بھی اجتناب کرنا ضروری ہے۔
حدیث شریف ملاحظہ فرمائیں:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها، قالت: فقدت رسول الله ﷺ ليلة فخرجت فإذا هو بالبقيع، فقال: أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله؟ قلت: يا رسول الله إني ظننت أنك أتيت بعض نساك، فقال: إن الله عز وجل ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا فيغفر لأكثر من عدد شعر غنم كلب. وفي الباب عن أبي بكر الصديق. قال أبو عيسى: حديث عائشة رضي الله عنه لا نعرفه إلا من هذا الوجه من حديث الحجاج وسمعت محمداً يضعف هذا الحديث وقال يحيى بن أبي كثير لم يسمع من عروة والحجاج بن أرطاة لم يسمع من يحيى بن أبي كثير. (سنن الترمذي، رقم؛ ۷۳۹، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان). وأخرجه أيضاً: ابن ماجه، رقم؛ ۱۳۸۹، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، وأحمد في مسنده، رقم: ۲٦۰۱۸، وعبد بن حميد في مسنده، رقم: ۱۵۰۹، والبيهقي في شعب الإيمان: ۳/۳۸۰/۳۵٤٤، والدارقطني في النزول، رقم: ۷۳.
قال الشيخ شعيب: إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة ولانقطاعه. (التعليقات على مسند أحمد، رقم: ۲٦۰۱۸).
الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة
میں علامہ عبد الحی لکھنوی رحمه الله لکھتے ہیں:

لا كلام في استحباب إحياء ليلة البراءة بما شاء من العبادات وبأداء التطوعات فيها كيف شاء لحديث ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان عن علي رضي الله عنه مرفوعاً،

ومن أمثلها حديث عائشة رضي الله عنها قالت: فقدت رسول الله ﷺ فخرجت فإذا هو بالبقيع

وفي الباب أحاديث أخر أخرجها البيهقي وغيره على ما بسطها ابن حجر المكي رحمه الله في الإيضاح والبيان، دالة على أن النبي ﷺ أكثر في تلك الليلة من العبادة والدعاء وزار القبور ودعاء للأموات. (الآثار المرفوعة: ۱/۸۱، دار الكتب العمية).

فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:

وأفضل أيام الزيارة أربعة يوم الاثنين والخميس والجمعة والسبت والزيارة يوم الجمعة بعد الصلاة حسن ويوم السبت إلى طلوع الشمس ويوم الخميس في أول النهار وقيل في آخر النهار وكذا في الليالي المتبركة لا سيما ليلة براءة. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۰).

بہشتی زیور میں مرقوم ہے:
شبِ براءت کی اصل اتنی ہے کہ پندرہویں رات اور پندرہواں دن اس مہینہ کا بہت بزرگی والا ہے ہمارے پیغمبر ﷺ نے اس رات کو جاگنے اور دن کو روزہ رکھنے کی ترغیب دلائی ہے اور اس رات ہمارے حضرت ﷺ نے مدینہ کے قبرستان میں تشریف لے جا کر مردوں کے لیے بخشش کی دعا مانگی ہے ۔ (بہشتی زیور: ٦/٦۰، ط: مکتبہ مدنیہ) ۔
عمدۃ الفقہ میں مذکور ہے: شبِ براءت میں اور ذی الحجہ کے دس دنوں میں اور عیدین میں اور عشرہ محرم میں بھی قبروں کی زیارت کرنا افضل ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۳۸، ط: زوار اکیڈمی) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.