پندرہ شعبان کو زیارتِ قبور کا حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #8Urdu
Vol. 3باب (۱۹): احکام الجنائز

Question

پندرہ شعبان کو زیارتِ قبور ثابت ہے یا نہیں؟

Answer

نبی کریم ﷺ کا پندرہ شعبان کو زیارتِ قبور کے لیے تشریف لے جانا ضعیف روایت سے ثابت ہے، چنانچہ اگر کوئی کبھی کبھار چلا جائے تو ٹھیک ہے، لیکن اس کا التزام اور اس پر اصرار نہیں کرنا چاہیے ۔
نیز زیارتِ قبور شبِ براءت کی خصوصیات میں سے نہیں ہے بلکہ دوسری صحیح روایات سے آپ ﷺ کا رات کے آخری حصہ میں قبرستان جانا ثابت ہے لہذا جب بھی موقعہ ملے بغیر کسی تخصیص کے موت کی یا د اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی خاطر زیارتِ قبور کا معمول بنانا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: فقدت رسول الله ﷺ ليلة فخرجت فإذا هو بالبقيع فقال: أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله؟ قلت: يا رسول الله ظننت أنك أتيت بعض نسائك فقال: إن الله تبارك وتعالى ينزل لنصف من شعبان إلى سماء الدنيا فيغفر لا كثر من عدد شعر غنم كلب. قال أبو عيسى: حديث عائشة لا نعرفه إلا من هذا الوجه من حديث الحجاج وسمعت محمداً يضعف هذا الحديث وقال: يحيى بن أبي كثير لم يسمع من عروة وقال محمد: والحجاج لم يسمع من يحيى بن أبي كثير. (رواه الترمذي: ۱/۱۵٦، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان)

پندرہ شعبان کی بنسبت عام راتوں میں زیارتِ قبور صحیح روایات سے ثابت ہے ۔
ملاحظہ ہو مسلم شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها أنها قالت: كان رسول الله ﷺ كلما كان ليلتها من رسول الله ﷺ يخرج من آخر الليل إلى البقيع فيقول: "السلام عليكم دار قوم مؤمنين وأتاكم ما توعدون غداً مؤجلون وإنا إن شاء الله بكم لا حقون، اللهمّ اغفر لا هل بقيع الغرقد". (رواه مسلم: ۱/۳۱۳).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وأفضل أيام الزيارة أربعة: يوم الإثنين، والخميس، والجمعة، والسبت

وكذا الليالي المتبركة لا سيما ليلة براءة. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۰).

مفتی تقی صاحب اپنے والد ماجد مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جو چیز رسول اللہ ﷺ سے جس درجہ میں ثابت ہو اسی درجہ میں اسے رکھنا چاہیے، اس سے آگے نہیں بڑھانا چاہیے، لہذا ساری حیاتِ طیبہ میں رسول کریم ﷺ سے ایک مرتبہ جنت البقیع جانا مروی ہے کہ آپ ﷺ شبِ براءت میں جنت البقیع تشریف لے گئے، چونکہ ایک مرتبہ جانا مروی ہے اس لیے تم بھی اگر زندگی میں ایک مرتبہ چلے جاؤ تو ٹھیک ہے، لیکن ہر شبِ براءت میں جانے کا اہتمام کرنا التزام کرنا اور اس کو ضروری سمجھنا اور اس کو شبِ براءت کے ارکان میں داخل کرنا اور اس کو شب براءت کا لازمی حصہ سمجھنا اور اس کے بغیر یہ سمجھنا کہ شبِ براءت نہیں ہوئی، یہ اس کو اس کے درجے سے آگے بڑھانے والی بات ہے ۔ (رسالہ "شبِ براءت کی حقیقت" ص: ۱۰ ۔ ۱۱) ۔
لیکن جلسہ اور دھوم دھام کی شکل اختیار کر کے قبرستان جانا منع ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.