معتکف کا نفل وضو کی غرض سے مسجد سے نکلنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #234Urdu
Vol. 3كتاب الصومباب(٦): اعتکاف کا بیان

Question

زید معتکف ہے ماہِ رمضان میں سنت اعتکاف میں مشغول ہے چاشت کی نماز ابھی تک نہیں پڑھی اس کا وضو ٹوٹ گیا اب نفل وضو یا وضو کو دائم رکھنے کے لیے مسجد سے باہر نکل سکتا ہے یا نہیں؟ بظاہر یہ وضو ضروری نہیں اس لیے نکلنا محل نظر ہے فقہ کی کتابیں اس مسئلہ کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں زید کے لیے نفل وضو یا وضو کو دائم رکھنے کے لیے مسجد سے نکلنا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو منحۃ الخالق میں ہے:

وفي حاشية الرملي عن خط المقدسي: لا شك أن صلاة تحية المسجد والسنة بالاستقلال أفضل من الإتيان بها في ضمن الفرض يؤدي ولا يخفى أن من يعتكف ويلازم باب الكريم إنما يروم ما يوجب له مزيد التفضيل والتكريم. (منحة الخالق علي البحر الرائق: ۲/۳۰۲، كوئته).

یعنی حاشیہ رملی میں ہے کہ تحیۃ المسجد اور سنت مستقل پڑھنا فرض کے ضمن میں پڑھنے سے افضل ہے اور معتکف کریم کے دروازہ پر فضائل اور ثواب کے حصول کے لیے ہی بیٹھا ہے ۔
البحر الرائق میں ہے:

والصحيح أن هذا قول الكل في حق الكل لأنه خرج لا قامة سنة الصلاة وسنتها تقام في موضعها فلا تعتبر خارجاً. (البحر الرائق: ۲/۳۰۳، كوئته).

شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمه الله نے اشعۃ اللمعات میں مستحب غسل کے لیے نکلنے کو جائز فرمایا ہے ۔ (اشعۃ اللمعات: ۲/۱۲۰)۔
اور متانہ میں بحوالہ فتاوی حجہ: "
والوضوء والاغتسال فرضاً كان أو نفلاً"
کی صراحت موجود ہے اس لیے معتکف نفل وضو اور نفل نماز کے لیے وضو دونوں کے لیے نکل سکتا ہے ۔ (
المتانة في مرمة الخزانة: ۳۷۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.