مزدلفہ کے علاوہ دوسری جگہ سے کنکریاں اٹھانے کا حکم:
Question
ایک شخص مزدلفہ سے رمی کے لیے کنکریاں اٹھانا بھول گیا، یہاں تک کہ منی پہنچ گیا تو دوسری کسی جگہ سے کنکریاں اٹھا سکتا ہے؟ اور اس پر کوئی کفارہ واجب ہوگا یا نہیں؟
Answer
مزدلفہ سے کنکریاں اٹھانا مستحباتِ حج میں سے ہے، تو اگر بھول گیا تو منی سے بھی اٹھا سکتا ہے اور کوئی چیز واجب نہیں ہو گی، ہاں جمرات کے قریب سے اٹھانے کو فقہاء نے مکروہ لکھا ہے ۔
ملاحظہ ہو شرح اللباب میں ہے:
يستحب أن يرفع من المزدلفة بسبع حصيات مثل النواة أو الباقلاء وهو المختار
ويجوز أخذها من كل موضع أي بلا كراهة إلا من عند الجمرة، أي فإنه مكروه لأن جمراتها الموجودة علامة أنها المردودة، فإن المقبولة منها ترفع لتثقيل ميزان صاحبها، إلا أنه لو فعل ذلك جاز وكره
والمسجد أي مسجد الخيف وغيره فإن حصي المسجد صار محترماً يكره إخراجه خصوصاً بقصد ابتذاله ومكان نجس فإن فعل جاز وكره. (شرح اللباب، ص ۲٤۵، فصل في رفع الحصى، بيروت).
نیز ملاحظہ ہو:
غنية الناسك في بغية المناسك: ص ۹۰، فصل في إضافة من المشعر ودفع الحصي من مزدلفة.
،
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.