جمرات سے مقبول کنکریاں اٹھائی جاتی ہیں اس روایت کی تحقیق:
Question
روایت میں آتا ہے کہ مقبول کنکریاں اٹھائی جاتی ہیں اور مردود وہیں پڑی رہتی ہیں کیا یہ روایت صحیح ہے؟
Answer
مذکورہ بالا روایت ضعیف ہے، لیکن اس کی توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ پہلے زمانہ میں اس کے اٹھانے کا انتظام نہیں تھا حالانکہ خود آنحضور ﷺ کے زمانہ میں دو حج مسلمانوں نے کیے، ایک حج حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امارت میں اور دوسرے میں آنحضرت ﷺ بنفس نفیس موجود تھے، مگر کنکریوں کی تعداد بہت کم تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقبول کنکریاں اٹھائی جاتی تھیں اور مردود باقی رہ جاتی تھیں، مگر روایت کے ضعف کو دیکھتے ہوے یہ بات یقینی نہیں بلکہ گمان کے درجہ میں ہے ۔
حدیث شریف ملاحظہ فرمائیں:
عن أبي الطفيل قال سألت ابن عباس رضي الله تعالى عنه عن الحصى الذي يرمي في الجمار منذ قام الإسلام، فقال: ما تقبل منهم رفع وما لم يتقبل منهم ترك ولو لا ذلك لسد ما بين الجبلين. (السنن الكبرى للبيهقي: ۵/۱۲۸، باب أخذ الحصى لرمي جمرة العقبة، بيروت).
اس روایت کی سند میں یزید بن سنان راوی ضعیف ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.