متمتع کا ایک سے زائد عمرے کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #297Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (۳): قران، تمتع اور افراد کا بیان

Question

اگر کوئی شخص حج کے لیے چلا جائے، اور تمتع کرے تو حلال ہونے کے بعد مکہ مکرمہ میں رہ کر بار بار عمرے کر سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں متمتع ایک سے زائد عمرے کر سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو غنیۃ الناسک میں ہے:

ويعتمر قبل الحج ما شاء وما في اللباب: ولا يعتمر قبل الحج فغير صحيح لأنه بناء على أن المكي ممنوع من العمرة المفردة، وهو خلاف مذهب أصحابنا جميعاً لأن العمرة جائزة في جميع السنة بلا كراهة إلا في خمسة أيام، لا فرق في ذلك بين المكي والآفاقي صرح به في النهاية والمبسوط والبحر وأخي زاده والعلامة قاسم وغيرهم رحمهم الله تعالى، كذا في المنحة بل المكي ممنوع من التمتع والقران وهذه عمرة مفردة لا أثر لها في تكرر تمتعه. (غنية الناسك في بغية المناسك: ۱۱۵، فصل في كيفية اداء التمتع المسنون، إدارة القرآن. وشرح اللباب: ۳۱۳، بيروت).

فتاوی رحیمیہ میں ہے:
راجح قول یہی ہے کہ اشہر حج میں متمتع آفاقی یوم عرفہ و یوم نحر اور ایام تشریق کے علاوہ باقی دنوں میں نفلی عمرہ بدوں حرج کر سکتا ہے، مصنف ارشاد الساری تحریر فرماتے ہیں کہ ناواقف متمتع حجاج کو جاہل معلم نفلی عمرہ سے روکتے ہیں، یہ غلط ہے، غریب ناواقف حجاج ایسی عبادت سے محروم رہتے ہیں جس کو وہ لوگ اپنے وطن میں نہیں کر سکتے، ایک بڑی عبادت سے محروم رہتے ہیں (ص ۱۹٤) لہذا عمرہ کرنے میں حرج نہیں، جائز ہے، احقر کا عمل یہی ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۲/۷۲) ۔
معلم الحجاج میں ہے:
متمتع ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ حج سے پہلے کر سکتا ہے ۔ (معلم الحجاج: ۲۵٦، مسائلِ تمتع ادارۃ القرآن ۔ و زبدۃ المناسک مع عمدۃ السالک: ۳۱۳ ۔ ۳۱۹ تمتع ادا کرنے کے طریقہ کا بیان) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.