طوافِ زیارت کو ایامِ نحر سے مؤخر کرنے پر کفارہ کا حکم:
Question
قواعد کی کتاب میں مرقوم ہے کہ اگر محرم طوافِ زیارت کو ایامِ نحر سے مؤخر کرے تو صاحبین کے نزدیک دم واجب نہیں ہے کیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں صاحبین کا مذہب یہی ہے، ابو زید دبوسی کی کتاب "تأسیس النظر" میں قاعدہ مرقوم ہے کہ محرم اگر طوافِ زیارت کو ایام نحر سے مؤخر کرے تو امام صاحب کے نزدیک دم واجب ہے اور صاحبین کے نزدیک کچھ واجب نہیں ہے ۔ اور اس کی تائید کتبِ فقہ سے بھی ہوتی ہے ۔ اگر چہ گنہگار ہوگا ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
(الواجب دم على محرم بالغ)
أو أخر الحاج الحلق أو طواف الفرض عن أيام النحر لتوقتهما بها أي الحلق وطواف الفرض بأيام النحر عند الإمام. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۵۵۵، باب الجنايات، سعيد).
وفي الطحطاوي: قوله أو أخر الحاج الحلق هذا عند الإمام وعندهما لا يلزم بالتأخير في المناسك شيء. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۵۲۵).
ہدایہ میں ہے:
ومن أخر الحلق حتى مضت أيام النحر فعليه دم عند أبي حنيفة رحمه الله وكذا إذا أخر طواف الزيارة وقالا: لا شيء عليه في الوجهين. (الهداية: ۱/۲۷٦. وكذا في البحر الرائق: ۳/۲٤، كوئته. وفتح القدير: ۳/٦۱، دار الفكر.
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.