آبِ زمزم اپنے گھر پر کھڑے ہو کر پینے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 3 #337Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (۷): حرمین شریفین کے احکام کا بیان

Question

آبِ زمزم اگر اپنے گھر میں پینا چاہے تو کھڑے ہو کر پینا چاہیے یا بیٹھ کر پینا بہتر ہے؟

Answer

آبِ زمزم کھڑے ہو کر پینا اور بیٹھ کر پینا دونوں بلا کراہت جائز ہے، لیکن کھڑے ہو کر پینا اولیٰ و بہتر ہے ۔
ملاحظہ ہو نور الایضاح میں ہے:

وشرب ماء زمزم والتضلع منه واستقبال البيت والنظر إليه قائماً. (نور الإيضاح: ص ۱۷۱).

اعلاء السنن میں ہے:

واستحب علماؤنا أن يشرب ماء زمزم قائماً ويشير إليه ما في حديث ابن عباس رضي الله تعالى عنهما آية ما بيننا وبين المنافقين أنهم لا يتضلعون من زمزم والتضلع لا يتأتى إلا قائماً وأخرج البخاري عن الشعبي أن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما حدثه قال: سقيت رسول الله ﷺ من زمزم فشرب وهو قائم. (إعلاء السنن: ۱۰/۲۱۳، إدارة القرآن).

مرقات المفاتیح میں ہے:

فإنه مخصص بماء زمزم وشرب فضل الوضوء، كما ذكره بعض علمائنا، وجعلوا القيام فيهما مستحباً وكرهوه في غيرهما، إلا إذا كان ضرورة، ولعل وجه تخصيصهما أن المطلوب في ماء زمزم التضلع ووصول بركته إلى جميع الأعضاء، وكذا فضل الوضوء مع إفادة الجمع بين طهارة الظاهر والباطن وكلاهما حال القيام أعم وبالنفع أتم. (مرقاة المفاتيح: ۸/۲۱۸، ملتان).

خصائل نبوی میں ہے:
بعض علماء نے زمزم پینے کو بھی اس ممانعت میں داخل فرمایا کر حضور ﷺ کے اس نوش فرمانے کو ازدحام کے عذر یا بیان جواز پر حمل فرمایا ہے، لیکن علماء کا مشہور قول یہ ہے کہ زمزم اس نہی میں داخل نہیں اس کا کھڑے ہو کر پینا افضل ہے ۔ (خصائل نبوی: ۱۴۸، دار الاشاعت) ۔
شامی میں ہے:

لكن قال في المعراج قائماً وخيره الحلواني بين القيام والقعود وفي الفتح وإن شاء قاعداً وأقره في البحر.

اس کے بعد فرماتے ہیں:
وفي السراج ولا يستحب الشرب قائماً إلا في هذين الموضعين أي فضل الوضوء وزمزم. (فتاوى الشامي: ۱/ ۱۲۹، سعيد).

ہاں علامہ شامی کی رائے یہ ہے:
والحاصل أن انتفاء الكراهة في هذين الموضعين محل كلام فضلاً عن استحباب القيام فيهما. (فتاوى الشامي: ۱/ ۱۳۰، سعيد).

علامہ رافعی رحمه الله نے علامہ شامی رحمه الله کے اباحت والے اس قول کو رد فرمایا ہے، اور یہ دیگر کتبِ فقہ کے موافق ہے ۔
ملاحظہ ہو تقریرات الرافعی میں ہے:

(قوله أفاد أن المقصود من قوله قائماً عدم الكراهة) فيه أن صريح كلام المصنف رحمه الله أن الشرب قائماً مستحب لأنه في صدد عد المستحبات، لا في بيان عدم الكراهة. (تقريرات الرافعي: ۱/ ۱۸، كتاب الطهارة، سعيد).

عام طور پر زمزم کے آداب ذکر کیے جاتے ہیں وہ حج کے موقعہ اور حرم میں حاضری کے وقت سے متعلق ہیں، لیکن احادیث میں جو ماءِ زمزم کے فضائل وہ مطلق ہیں ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:

عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال: قال رسول الله ﷺ: خير ماء على وجه الأرض ماء زمزم فيه طعام طعم وشفاء سقم

الحديث، رواه الطبراني في الكبير ورواته ثقات، ورواه ابن حبان أيضاً. وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال: قال رسول الله ﷺ: ماء زمزم لما شرب له

الخ. رواه الدارقطني وابن ماجه ومثله في مسند أحمد. (فتح القدير: ۲/ ۵۰۵. ۵۰۷، دار الفكر).

نیز جو آداب حرم میں ملحوظ ہوتے ہیں ان کی رعایت غیر حرم میں بھی مناسب ہے ۔
ملاحظہ ہو کتاب الفتاوی میں ہے:
چونکہ زمزم کی عظمت کا پہلو کچھ حج ہی سے متعلق نہیں بلکہ ہر وقت اور ہر جگہ ہے اس لیے یہ سمجھنا درست نہیں کہ حج کے موقعہ سے زمزم پینے کے احکام الگ ہیں اور عام حالات میں الگ ۔ (کتاب الفتاوی: ٤/ ۸۲) ۔
زبدۃ المناسک میں زمزم پینے کی ترتیب کے تحت مذکور ہے:
کعبۃ اللہ کی طرف منہ کر کے اُٹھ کر کھڑا ہو اور داہنے ہاتھ میں لے کر پیے اور بائیں ہاتھ سے پینا مکروہ ہے اور تین سانس میں پیے اور ہر دفع کے شروع میں بسم اللہ کہے اور سانس لینے میں الحمد للہ کہنا مستحب ہے ۔ (زبدۃ المناسک مع عمدۃ المناسک: ص ۱۳۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.