بیٹھ کر وضو کرنا مستحب ہونے کا حکم:
Question
بیٹھ کر وضو کرنا مستحب ہے یا کھڑے ہو کر؟
Answer
بیٹھ کر وضو کرنا مستحب ہے، بہشتی زیور میں ہے:
وضو کرنے والے کو چاہیے کہ وضو کرتے وقت قبلہ منہ کر کے کسی اونچی جگہ بیٹھے کہ چھینٹے اڑ کر اوپر نہ پڑیں ۔ (بہشتی زیور ص
٤۵
) ۔
ترمذی شریف میں ہے:
"عن أبي حية قال: رأيت علياً توضأ فغسل حتى أنقاهما ثم مضمض ثلاثاً واستنشق ثلاثا وغسل قدميه إلى الكعبين ثم قام فأخذ فضل طهوره فشربه وهو قائم ثم قال: أحببت أن أريكم كيف كان طهور رسول الله ﷺ. (الجامع الترمذي باب في وضوء النبي كيف كان: ۱/ ۱۷).
اس روایت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے بیٹھ کر وضو فرمایا پھر وضو مکمل کرنے کے بعد بچے ہوے پانی کو پینے کے لیے کھڑے ہو گئے اور بیٹھ کر وضو کرنا حضور ﷺ کی عادتِ شریفہ تھی ۔ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ نے فرمایا:
"الجلوس في مكان مرتفع تحرزاً عن الماء المستعمل". (فتاوى الشامي: ۱/ ۱۲۷).
لیکن اگر کھڑے ہو کر وضو کیا تو گنجائش ہے، کیونکہ حدیث میں ہے:
"عن ابن عباس أن النبي ﷺ نام حتى نفخ ثم صلى وربما قال: اضطجع حتى نفخ، ثم قام فصلي، ثم حدثنا به سفيان مرة عن عمرو عن كريب عن ابن عباس قال بِتُّ عند خالتي ميمونة ليلة فقام النبي ﷺ من الليل فلما كان في بعض الليل قام رسول الله ﷺ فتوضأ من شن معلق وضوء خفيفاً يخففه عمرو ويقلّله وقام". (صحيح البخاري: ۱/ ۲۵، باب التخفيف في الوضوء).
بخاری کی دوسری روایت میں ہے:
"فقام إلى شنّ معلّقة فتوضأ منها" (صحيح البخاري: ۱/۳۰).
اس روایت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے لٹ کے ہوے مشکیزے سے کھڑے ہو کر وضو فرمایا تو اس سے کھڑے ہو کر وضو کرنے کی گنجائش پیدا ہو ئی ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.