منگنی کے بعد بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کا حکم:
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلۂ ذیل کے بارے میں :
زید نے ایک لڑکی کو پیغام نکاح دیا اور قبول بھی کر لیا گیا، پس زید اپنی مخطوبہ کے ساتھ قبل النکاح بات چیت کر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
شریعتِ مطہرہ نے بوقت ضرورت بات کرنے کی اجازت دی ہے اور جب رشتہ طے ہو گیا تو یہ ضرورت پوری ہو گئی اب بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے میں کوئی ضرورت نہیں ہے، نیز اپنی مخطوبہ کے ساتھ نکاح سے پہلے مزے لے کر بات چیت کرنا شریعت کی نگاہ میں پسندیدہ نہیں ہے اور اس سے بڑی خطرناک حالت یہ ہے کہ بہت سی جگہوں پر دیکھا گیا کہ شادی سے قبل اپنی مخطوبہ کو کار میں لے گھومتے ہیں اس میں خلوت بھی ہے، یہ بالکل جائز نہیں، یہ بات ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ مخطوبہ اجنبیہ کے حکم میں ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
ولا يكلم الأجنبية. (الدر المختار: ٦/۳٦۹، سعيد).
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
ان دونوں کا شادی سے پہلے تنہائی میں یکجا ہونا حرام ہے ۔
وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام. "الدر المختار: ۳/۳۲۳". (
مجموعہ قوانین اسلامی: ص۳۷، دفعہ ۱۱مع الحاشیہ) ۔
آپ کے مسائل میں ہے:
نکاح سے پہلے منگیتر اجنبی ہے، لہذا نکاح سے پہلے منگیتر کا حکم بھی وہی ہو گا جو غیر مرد کا ہے کہ عورت کا اس کے ساتھ اختلاط جائز نہیں اور معاشرے میں کسی چیز کا رواج ہو جانا کوئی دلیل نہیں ایسا غلط رواج جو شریعت کے خلاف ہو خود لائق اصلاح ہے، نیز زیادہ تعلقات کی نکاح سے قبل اجازت نہیں، نہ میل جول کی اجازت ہے اور نہ خلوت و تنہائی کی، نکاح سے قبل ملنا جلنا ب جائے خود غیر اخلاقی حرکت ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۵/۳٤، ۳۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.