شادی کے ارادہ سے لڑکی کو خطوط لکھنے کا حکم:
Question
(۱) اگر کسی لڑکی کی پہچان کرنی ہو شادی کے ارادہ سے تو کیا اس کو خطوط لکھنا اور اس کا جواب دینا درست ہے یا نہیں؟ (۲) اگر اس کو پہچان لیا یا پہلے سے پہچانتا ہو پھر بھی خطوط لکھنا کیسا ہے؟
(الف) جب کہ ان خطوط میں محبت و عشق کی باتیں ہوں ۔
(باء) جب کہ ان خطوط میں محبت کی باتیں نہ ہوں کیا حکم ہے؟
Answer
شریعتِ مطہرہ میں شادی کے ارادہ سے دیکھنے اور مختصر بات کرنے کی اجازت ہے تو پھر خط لکھنا بھی شرعاً درست ہے، ہاں لطف اندوزی اور ٹائم پاس نہ ہو، نیز جس طرح دیکھنے کے وقت تاکید کی گئی ہے کہ لڑکا اور لڑکی شرعی حدود کی رعایت کریں، اسی طرح خط لکھتے وقت بھی شرعی حدود کی رعایت ضروری ہے، جب احادیث مبارکہ سے دیکھنے کی اجازت ہے تو خط لکھنا اس سے کم درجہ ہے، نیز خط کے ذریعہ جب ضروری معلومات حاصل ہو جائے تو سلسلۂ خطوط بند ہو جانا چاہیے ۔
(۲) لڑکی کو پہچان لیا اور ضروری معلومات حاصل ہو گئی تو اب خط لکھنا درست نہیں چاہے محبت و عشق کی بات ہو یا نہ ہو اس لیے کہ جب تک عقد نکاح نہیں ہوا اجنبیہ کے حکم میں ہے ۔
طحطاوی میں ہے:
قوله والنظر إليها قبله، أي فإنه مندوب، لأنه داعية للألفة فينظر إلى وجهها وكفيها وإن لم تأذن له هي أو وليها إذا علم أنه يجاب في نكاحها. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۵، كوئته).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.