شادی کے ارادہ سے لڑکی کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کا حکم:
Question
بخدمت جناب حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہ، السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
میں ڈاکٹر ہوں کسی نیک سیرت ڈاکٹرنی سے شادی کا ارادہ رکھتا ہوں، آج کل معاشرے کی خرابی کی وجہ سے میں ڈرتا ہوں، یہاں ہسپتال میں ایک نوجوان نیک سیرت (بظاہر) ڈاکٹرنی کام کرتی ہے، نمازوں کی پابند ہے سر پر اسکاف ہے، فی الحال میرا اس سے کوئی تعلق نہیں، کیا میرے لیے اس بات کی گنجائش ہو گی کہ میں شادی کے ارادہ سے اس لڑکی کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کر لوں اور اندرونی حالات کا اندازہ لگاؤں، تاکہ اطمینان ہو جائے، شریعت کی روشنی میں رہبری فرمائے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں آپ کا تحریر کردہ طریقہ شریعت کی نگاہ میں جائز و درست نہیں، کسی لڑکی کے اخلاق و عادات کا علم اس کے پڑوسیوں اور خاندان کی عورتوں سے بہتر طریقہ پر دریافت ہو سکتا ہے، نیز عورتیں کسی عورت کے مزاج کو بہتر طریقہ پر سمجھ سکتی ہیں، اسی طرح آپ نے اس لڑکی کی شکل و صورت بھی دیکھ لی ہے اب اس کو بار بار دیکھنا بھی روا نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو نصب الرایہ میں ہے:
قال عليه السلام: "لا يخلون رجل بامرأة، ليس منها بسبيل، فإن الشيطان ثالثهما" قلت: وقد روي من حديث عمر رضي الله تعالى عنه، وابن عمر رضي الله تعالى عنه وجابر بن سمرة رضي الله تعالى عنه، وعامر بن ربيعة رضي الله تعالى عنه، وليس فيه قوله: "ليس منها بسبيل". (نصب الراية: ٤/۲۴۹، المكتبة المكية).
ہدایہ میں ہے:
ولا يجوز أن ينظر الرجل إلى الأجنبية إلا إلى وجهها وكفيها، فإن كان لا يأمن الشهوة لا ينظر إلى وجهها إلا لحاجة، لقوله ﷺ: "من نظر إلى محاسن امرأة أجنبية عن شهوة صب في عينه الاٰنك يوم القيامة" فإن خاف الشهوة لم ينظر من غير حاجة تحرزاً عن المحرم، وقوله لا يأمن يدل على أنه لا يباح إذا شك في الاشتهاء، كما إذا علم أو كان أكبر رأيه ذلك. (الهداية: ٤/۴۵۸، كتاب الكراهية، فصل في الوطئ والنظر واللمس).
در مختار میں ہے:
ولا يكلم الأجنبية. (الدر المختار: ٦/۳٦۹، سعيد).
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
ان دونوں کا شادی سے پہلے تنہائی میں یکجا ہونا حرام ہے ۔
وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام. "الدر المختار: ۳/۳۲۳". (
مجموعہ قوانین اسلامی: ص ۳۷، دفعہ ۱۱مع الحاشیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.