بغیر گواہوں کے نکاح کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #371Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (۲): فیما ینعقد بہ النکاح و ما لا ینعقد

Question

کسی شہر میں صرف دو مسلمان ہیں ایک مرد اور ایک عورت، دوسرے مسلمان ان سے تقریباً ۲۵۰۰ کیلو میٹر دور رہتے ہیں، تو یہ دونوں شادی کیسے کریں جب کہ کوئی گواہ موجود نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں بغیر گواہوں کے نکاح جائز اور درست نہیں ہے، ہاں یہ کر سکتے ہیں کہ کسی دوسرے ملک میں فون کے ذریعہ سے وکیل بنا دے پھر وکیل مجلس نکاح میں گواہوں کے سامنے ان دونوں کی طرف سے نکاح پڑھا دے، اور ان کو اطلاع دے دے، اس صورت میں ایک شخص جانبین کا وکیل بن سکتا ہے یا علیحدہ وکیل ہو تب بھی صحیح ہے ۔
دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے دونوں مسلمانوں کے ملک کا سفر کر لے اور وہاں جا کر مسلمانوں کے اجتماع میں نکاح کر لیں ۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:

أجمع أصحابنا أن الواحد يصلح وكيلاً في النكاح من الجانبين. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۹۹)

در مختار میں ہے:

ويتولى طرفي النكاح واحد بإيجاب يقوم مقام القبول في خمس صور كأن كان ولياً أو وكيلاً من الجانبين، وفي الشامي: قوله ولياً أو وكيلاً من الجانبين كزوجت ابني بنت أخي أو زوجت موكلي فلا ناً أو موكلتي فلانة، قال ط: ويكفي شاهدان على وكالته، ووكالتها وعلي العقد لأن الشاهد يتحمل الشهادات العديدة، وقدمنا أن الشهادة على الوكالة لا تلزم إلا عند الجحود. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۹٦، سعيد).

فتاوی فریدیہ میں ہے:
نکاح میں ایک آدمی طرفین کا قائم مقام ہو سکتا ہے ۔ (فتاوی فریدیہ: ٤/۳۹۲) ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال: ایک شخص نے بذریعہ تار اپنے مرشد کو اطلاع دی کہ میرا نکاح فلاں عورت کے ساتھ پڑھا دیا جائے، اس صورت میں کیا حکم ہے؟
الجواب: مرشد اس حالت میں نکاح پڑھا سکتا ہے، اور ایجاب و قبول اس فریق کی طرف سے کر سکتا ہے جس نے بذریعہ خط یا تار کے اجازت دی ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۷/۱٤۰) ۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
ایک ہی شخص مرد و عورت دونوں کی طرف سے وکیل ہو سکتا ہے ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۸٦، دفعہ ۹۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.