لڑکی کے نام میں غلطی کرنے سے نکاح کا حکم:

5 min readFatwa Vol 3 #377Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (۲): فیما ینعقد بہ النکاح و ما لا ینعقد

Question

اگر وکیل نے لڑکی کے نام میں یا اس کے والد کے نام میں غلطی کی تو کیا نکاح منعقد ہو جائے گا یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اگر لڑکی مجلس نکاح میں موجود تھی اور اس کی طرف اشارہ کیا تھا تو نکاح ہو گیا اور اگر موجود نہیں تھی تو دونوں صورتوں میں نکاح نہیں ہوا یعنی لڑکی کے نام میں غلطی کی یا والد کے نام میں غلطی کی نکاح نہیں ہوا ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:

غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها بغير حضورها لم يصح للجهالة، وكذا لو غلط في اسم بنته إلا إذا كانت حاضرة وأشار إليها. وفي الشامية: (قوله، لم يصح) لأن الغائبة يشترط ذكر اسمها واسم أبيها وجدها وتقدم أنه إذا عرفها الشهود يكفي ذكر اسمها فقط خلافاً لا بن الفضل وعند الخصاف يكفي مطلقاً، والظاهر أنه في مسألتنا لا يصح عند الكل لأن ذكر الاسم وحده لا يصرفها عن المراد إلى غيره، بخلاف ذكر الاسم منسوباً إلى أب آخر، فإن فاطمة بنت أحمد لا تصدق علي فاطمة بنت محمد، تأمل، وكذا يقال فيما لو غلط في اسمها. (قوله إلا إذا كانت حاضرة) راجع إلى المسألتين، أي فإنها لو كانت مشاراً إليها وغلط في اسم أبيها أو اسمها لا يضر لأن تعريف الإشارة الحسية أقوي من التسمية، لما في التسمية من الاشتراك لعارض فتلغو التسمية عندها. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۲٦، سعيد).

فتاوی فریدیہ میں ہے:
اگر لڑکی اس مجلس میں موجود نہ تھی تو یہ نکاح درست نہیں ہے،
كما في فتاوى قاضي خان: امرأة وكلت رجلاً بأن يزوجها فزوجها وغلط في اسم أبيها لا ينعقد النكاح إذا كانت غائبة. فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۳۲٤. (
فتاوی فریدیہ: ٤/٤۰۸) ۔
ہاں اگر لڑکی کے والد کے نام میں غلطی کی اور گواہ لڑکی کو اچھی طرح جانتے ہیں تو نکاح صحیح ہو جائے گا ۔
ملاحظہ ہو فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
جانی پہچانی عورتوں کے باپ کا نام بدل بھی جائے تو نکاح ہو جاتا ہے، اگر چہ در مختار کی عبارت سے ایسا مفہوم ہوتا ہے کہ ایسی غلطی سے نکاح صحیح نہیں ہوتا، (در مختار کی عبارت اوپر مذکور ہوئی) لیکن جواب یہ ہے کہ اولاً تو در مختار کی عبارت میں
"للجهالة" كا
لفظ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غلطی میں عدم جواز کی علت جہالت جو مفقود ہے ۔ (ملخص از فتاوی دار العلوم: ۷/۱۲۳، مدلل و مکمل) ۔
نیز مذکور ہے کہ وکیل یا قاضی نے غلطی سے لڑکی کا نام بدل دیا پھر بھی نکاح صحیح ہو جائے گا ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
اگر چہ ظاہر عباراتِ کتبِ فقہ سے اس صورت میں واضح ہوتا ہے کہ جس کا نام وقت ایجاب و قبول لیا گیا ہے اس کے ساتھ منعقد ہو مگر بحث یہ ہے کہ قاضی اور وکیل کو پہلے بتلا دیا جاتا ہے کہ فلاں کا نکاح فلانہ سے کرانا ہے اس میں قاضی یا وکیل کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وکالت کے خلاف کرے، کیوں کہ اس کے خلاف کرنے کے لیے وکیل ہی نہیں بنایا گیا، لیکن در مختار کی عبارت میں ہے کہ
"وكذا غلط في اسم بنته (أي لا يصح)
اس کا جواب یہ ہے کہ اس عبارت میں خود باپ نے عقد نکاح کیا ہے، اور صورتِ مسئولہ میں قاضی یا وکیل نے نکاح پڑھا ہے اور وکیل خلاف کرے تو معتبر نہیں ہے، کما مر تفصیلہ ۔ (فتاوی دار العلوم: ۷/۱۲۲، مدلل و مکمل ۔ و کذا فی امداد الاحکام: ۲/۲۳۰) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ لڑکی جانی پہچانی ہے اور گواہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں تو نکاح ہو جائے گا اور غلطی مضر نہیں ہو گی، یہی فتاوی دار العلوم کی عبارت کا مطلب ہے، اور اگر لڑکی مجہولہ ہے تو نکاح نہیں ہو گا جیسا کہ در مختار، قاضی خان اور فتاوی فریدیہ کی عبارات سے واضح ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.