دو بھائیوں کا ماں بیٹی سے نکاح کرنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #393Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (۲): فیما ینعقد بہ النکاح و ما لا ینعقد

Question

زید و عمر دو حقیقی بھائی ہیں، دونوں ایک ہی گھر میں زید ماں سے اور عمر بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس طرح نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اس طرح نکاح کرنا صحیح اور درست ہے، اور یہ آیتِ کریمہ:
﴿وأحل لكم ما وراء ذلكم﴾
میں داخل ہو کر حلال ہے، اور کوئی وجہ حرمت بھی موجود نہیں ہے ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
لڑکی کی شادی زید کے بھائی سے ہوئی اور لڑکی کی والدہ کی شادی زید سے ہوئی تو دونوں صحیح ہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۱/۲۸۱، مبوب و مرتب) ۔
مزید ملاحظہ ہو: فتاوی دار العلوم دیوبند: ۷/۱۷٦، مدلل و مکمل ۔ و امداد الاحکام: ۲/۲۵۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.