رضاعی بہن کے بھائی کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم:
Question
ایک لڑکی کو اس کے خالہ زاد بھائی نے نکاح کا پیغام دیا جب کہ لڑکے کی بہن اور یہ لڑکی دونوں رضاعی بہنیں ہیں، تو کیا یہ نکاح جائز ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اپنی حقیقی بہن کی رضاعی بہن جو خالہ زاد بہن بھی ہے، اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے، عدمِ جواز کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔
اس کی مثال یہ ہے کہ ساجدہ اور عابدہ دونوں بہنیں ہیں ؛ ساجدہ کی ایک لڑکی مومنہ ہے اور عابدہ کی ایک لڑکی شاکرہ اور ایک لڑکا شاکر ہے، اب ساجدہ نے اپنی بیٹی مومنہ اور اپنی بھانجی شاکرہ کو دودھ پلایا تو یہ دونوں رضاعی بہنیں ہوئیں، تو اب شاکر کا نکاح اپنی حقیقی بہن شاکرہ کی رضاعی بہن مومنہ جو شاکر کی خالہ زاد بھی ہے اس کے ساتھ جائز اور درست ہے ۔ ملاحظہ ہو البنایہ شرح الہدایہ میں مذکور ہے:
ويجوز أن يتزوج الرجل بأخت أخيه من الرضاع، لأنه يجوز أن يتزوج بأخت أخيه من النسب، وذلك مثل الأخ من الأب إن كانت له أخت من أمه جاز لأخيه من أبيه أن يتزوجها. ش: أوضح الاترازي كلام المصنف بقوله: هذا مثل أن يرضع زيد من أم عمرو، فيجوز لعمرو أن يتزوج أخت زيد نسباً، وإن كان زيد أخاه من الرضاع، كما في النسب، ذلك مثل الأخوين لا ب، ولأحدهما أخت من أمه من غير أمها جاز للأخ الآخر أن يتزوج أخته، لأن هذه أجنبية في حق الأخ لا ب، وعلى هذا أخت الأخت من الرضاع، وأخت الأخت من النسب، وكان ينبغي أن يقول: أخت أخيه، أو أخته من الرضاع، ويقول: أخت أخيه، وأخته من النسب، لكن اكتفي بذكر الأخ لظهور ذلك. (البناية شرح الهداية: ٤/۸۱۸، ط: رشيديه كوئته). (وكذا في اللباب في شرح الكتاب: ۱/۲٦۲، ط: دار الكتاب العربي، وتبيين الحقائق: ۲/۱۸٤، إمداديه).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.