رضاعی بیٹے کی بہن سے جواز نکاح کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #208Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب الرضاع

Question

ایک شخص کی بیوی نے ایک لڑکے کو دودھ پلایا، اور اس لڑکے کی باپ شریک دوسری بڑی بہن ہے، اب بیوی کے انتقال کے بعد یہ شخص اس لڑکی سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ رضاعی بیٹے کی بڑی بہن سے جو کہ اس کی بیوی کی بیٹی نہیں ہے، نکاح جائز ہے۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

لا يحل للرضيع إلا أم أخته من الرضاع وأخت ابنه من الرضاع فإنه يجوز له أن يتزوجها. (خزانة الفقه، ص: ۱۳۹).

ہدایہ میں ہے:

ويجوز تزويج أخت ابنه من الرضاع ولا يجوز ذلك من النسب، لأنه لما وطئ أمها حرمت عليه، ولم يوجد هذا المعنى في الرضاع. (الهداية: ۲/۳۵۱، كتاب الرضاع).
وهذا مما استثتي من "يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب".

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.